مادھوری گپتا پر فرد جرم عائد

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
دلی کی ایک عدالت نے پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام میں سابق بھارتی سفارتکار مادھوری گپتا کے خلاف فرد جرم عائد کر دی ہے۔
مادھوری گپتا کی عمر 53 سال ہے اور انہیں اپریل دو ہزار دس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ اسلام آباد میں واقع بھارتی سفارت خانے میں سیکنڈ سیکریٹری (پریس اور انفارمیشن) کے عہدے پر فائز تھیں۔
مادھوری گپتا پر سرکاری رازداری قانون کے تحت جاسوسی کا مقدمہ چلایا جائے گا اور جرم ثابت ہونے پر انہیں زیادہ سے زیادہ تین سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ انہیں مجرمانہ سازش کرنے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔
مقدمے کی سماعت بائیس مارچ سے ایڈیشنل سیشن جج پون کمار جین کی عدالت میں ہوگی۔
تفتیشی اداروں نے ان کے خلاف گزشتہ برس جولائی میں فرد جرم عائد کی تھی اور اب ان الزامات کو عدالت کی جانب سے حتمی شکل دیے جانے کے بعد مقدمہ کی سماعت شروع ہوجائے گی۔
تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ وہ جمشید اور مبشر رعنا نام کے مبینہ ایجنٹوں سے رابطے میں تھیں اور جمشید سے محبت کرتی تھیں جو ان کا ’ہینڈلر‘ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مادھوری گپتا کو اردو زبان میں مہارت حاصل ہے۔
تفتیشی اداروں نے ان کے خلاف سات سو صفحات پر مشتمل فرد جرم داخل کی تھی اور دلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ آئی ایس آئی کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے لیے انہوں نے ایک لاکھ روپے کی رقم بھی لی تھی۔
پولیس نے ان کے خلاف تیس گواہوں کے بیانات بھی عدالت میں پیش کیے ہیں۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ وہ ای میل کے ذریعہ پاکستانی ایجنٹوں کو خفیہ معلومات فراہم کرتی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تفتیش کے دوران اسلام آباد میں ان کی رہائش سے پانچ کمپیوٹر بھی ضبط کیے گئے تھے جو وہ مبینہ طور پر استعمال کرتی تھیں۔
فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ ’ان کے ای میل پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جمشید سے محبت کرتی تھیں اور دونوں شادی کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ پیغامات کے متن سے بالکل واضح ہے کہ جم (جمشید) پاکستانی شہری ہیں۔‘
مبصرین کا خیال ہے کہ مادھوری گپتا کو کسی حساس خفیہ معلومات تک رسائی حاصل نہیں تھی کیونکہ وہ کسی اہم عہدے پر فائز نہیں تھیں۔ یہ بات خود مادھوری گپتا نے اس عدالت کے سامنے پیش ہونے پر کی تھی۔ انہوں نے عدالت میں الزام لگایا تھا کہ انہیں پھنسایا جارہا ہے اور یہ کہ وہ محض ایک جونیئر افسر تھیں۔
بتایا جاتا ہے کہ تفتشی ادارے کئی ماہ سے شبہہ کی بنیاد پر ان پر نظر رکھ رہے تھے اور انہیں بھوٹان میں ہونے والے سارک سربراہی اجلاس کی تیاری کے بہانےسے دلی بلا کرگرفتار کیا گیا تھا۔







