پاکستان کا رویہ غیر منصفانہ: بھارت

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت کی حکومت نے شکاگو کی عدالت کی طرف سے پاکستانی نژاذ امریکی شہری تہور حسین رانا کو ممبئی حملے کی سازش کرنے کے الزام سے بری کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
بھارت کے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے اس سے متعلق نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پاکستان پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’ممبئی حملے سے متعلق پاکستان کا رویہ ہمارے ساتھ غیر منصانہ رہا ہے۔ ہم امید کریں گے کہ ہمارے وسیع تر دوطرفہ مفاد کی خاطر پاکستان اس معاملے میں اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرے۔‘
اس سے پہلے بھارتی وزیر داخلہ کی طرف سے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کرکے کہا ہے گیا کہ شکاگو کی عدالت کے فیصلے پر اسے مایوسی ہوئی ہے اور اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
دفترداخلہ کے ایک سیکریٹری یو کے بنسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس معاملے کی تفتیش نیشنل انویسٹی گیٹیو ایجنسی کر رہی اور بھارت میں ڈیوڈ ہیڈلی اور تہور رانا پر اس سلسلے میں مقدمہ دائر کرنے سے پہلے امریکی عدالت کی دستاویزات اور شواہد کا جائزہ لیا جائےگا۔‘
انہوں نے کہا کہ ان افراد کے خلاف بھارت میں بھی فرد جرم عائد کی جائےگي لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے کی کارروائی امریکی عدالت میں پہلے مکمل کر لی جائے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ’بھارت کو اس سے دھچکا نہیں لگا ہے کیونکہ اس معاملے کی یہاں پر بھی تفتیش جاری ہے اور بھارت میں ان افراد پر مقدمہ بھارتی جانچ کی بنیاد پر چلایا جائےگا۔‘
بیان میں کہا گيا ہے کہ تہور حسین رانا کے وکیل نے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی بات کہی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکی حکومت بھی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتی ہے یا نہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شکاگو کی ایک عدالت نے پاکستانی بزنس میں تہور حسین رانا کو ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ کی معاونت کرنے اور ڈنمارک کے اخبار پر حملے کی سازش میں شریک ہونے کا مجرم قرار دیا ہے۔
تاہم تہور انہیں ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام سے بری کر دیا گیا ہے۔ عدالت کی طرف سے تہور حسین رانا کے خلاف سزا کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
مسٹر تہور حسین رانا کو ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ کی مدد کرنے پر زیادہ سے زیادہ عمر قید اور ڈنمارک کے اخبار پر حملے کی سازش میں شریک ہونے کے الزام پندرہ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔







