امریکی نہیں یورپی جہاز خریدیں گے:بھارت

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارت نے امریکہ کو یہ اطلاع دے دی ہے کہ بھارت نے جن کمپنیوں کے جنگی جہاز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں امریکی کمپنیوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ امریکہ دس ارب ڈالر کے اس سودے کے بارے میں بہت پر امید تھا۔
امریکہ کی طرف سے بوئنگ ایف اے 18 سپر ہارنٹ اور لاک ہیڈ مارٹن کے ایف 16 جنگی طیارے کی پیشکش کی گئی تھی۔ دونوں امریکی کمپنیوں کو دفاعی سودے کی دوڑ سے باہر کیے جانے پر امریکہ نے مایوسی ظاہر کی ہے۔
امریکی سفیر کی طرف سے جاری کیےگئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسترد کیے جانے کی خبر سے امریکہ کو گہری مایوسی ہوئی ہے ۔ انہوں نےکہا ’مجھے حکومت ہند کی اعلی ترین سطح پر ذاتی طور پر یہ یقین دلایا گیا ہے کہ جنگی طیاروں کی خریداری کا عمل شفاف ہے اور رہےگا۔‘
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ہم بھارت سے اپنے دفاعی رشتے مزید مستحکم کرنے کی امید کر ر ہے ہیں مجھے پورا اعتماد ہے کہ دونوں امریکی کمپنیاں مسابقتی قیمت پر اعلی میعار کی ٹیکنالوجی والے بہترین طیارے بھارتی فضائیہ کو فراہم کریں گے۔‘
وزارت دفاع نے امریکی سفارتخانے کو دونوں امریکی کمپنیوں کے جہاز نہ منتخب کرنے کے بارے میں اطلاع بدھ کو دی تھی۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے بھارت کے اپنے دورے کے دوران امریکی طیاروں کے معاملے پر وزیر اعظم منموہن سنگھ سے بات کی تھی اور بعد میں ایک خط بھی لکھا تھا جس میں انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ یہ سودا امریکی انتطامیہ کے لیے کتنا اہم ہے۔
امریکی انتظامیہ اس سودے کے بارے میں کافی پر امید تھی اور اطلاعات کے مطابق بھارت پر اس کے لیے سیاسی دباؤ بھی ڈالا جا رہا تھا۔
بعض اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ صرف فرنچ رفائیل اور یورو فائٹر کمپنیوں کو ہی مزید بات چیت کے لیے منتخب کیاگیا ہے۔ اس سودے کے لیے روس کا مگ – 35 اور سویڈین کا گرائپن طیارہ بھی زیر غور تھا جو بظاہراب نامنتخب کردیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بھارت میں امریکی سفیر ٹموتھی رومر کے استعفی کا کوئی تعلق امریکی کمپنیوں کو مسترد کیے جانے سے ہے یا نہیں۔ مسٹر رومر نے گزشتہ روز اپنے استعفے کا اعلان کیا تھا۔
مسٹر رومر بھارت میں کافی سرگرم تھے اور دو سال قبل سفیر مقرر ہونے کے بعد سے ہی بھارت اور امریکہ کے تعلقات مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔
پریس کو جارے کیے گئے اپنے استعفی کے خط میں رومر نے کہا ہے کہ انہوں نے صدر براک اوباما سے کہا تھا کہ وہ فیملی وجوہات سے صرف دو برس کے لیے ہی اس عہدے پر رہ سکیں گے۔ اور اب وہ ذاتی وجوہات کے سبب مستعفی ہو رہے ہیں۔







