’قتل کے الزام میں سادھوی گرفتار‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مالیگاؤں بم دھماکہ کی اہم ملزمہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو پولیس نے مبینہ طور پر آر ایس ایس لیڈر سنیل جوشی کے قتل کی سازش کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
جوشی سنہ دو ہزار سات میں اجمیر بم دھماکہ کے اہم ملزمان میں سے ایک تھے۔
زیر حراست سادھوی ممبئی کے ریاستی جے جے ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ مدھیہ پردیش کی ریاست بھوپال پولیس نے مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (مکوکا) عدالت سے سادھوی کی گرفتاری کے لیے عرضداشت داخل کی تھی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
اپنی درخواست میں بھوپال پولیس نے کہا ہے کہ انہیں سنیل جوشی قتل کیس میں سادھوی سے تفتیش کرنی ہے کیونکہ دوران تفتیش انہیں پتہ چلا ہے کہ سنیل جوشی کے قتل سے قبل سادھوی نے ان سے ملاقات کی تھی۔
ممبئی میں بی بی سی کی نامہ نگار ریحانہ بستی والا کے مطابق جوشی آر ایس ایس کے سرگرم رکن تھے اور پولیس کے مطابق سنیل جوشی اور سادھوی میں گہری دوستی تھی۔ سادھوی نے جوشی کی موٹر سائیکل مالیگاؤں بم دھماکہ میں استعمال کی تھی۔
پولیس کے مطابق جوشی کو دسمبر سن دو ہزار سات میں انہی کے ساتھیوں نے قتل کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق جوشی سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ کے بھی ملزم تھے۔ دلی اور لاہور کے درمیان دوستی بڑھانے کے لیے چلائی گئی اس ٹرین میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں انہتر افراد ہلاک ہوئے تھے۔
گزشتہ برس آر ایس ایس رکن سوامی اسیمانند نے اپنے اقبالیہ بیان میں کہا تھا کہ سادھوی، سنیل جوشی اور دیگر نے ایک میٹنگ میں فیصلہ کیا تھا کہ ملک میں ہو رہے بم دھماکوں کا برابر جواب دینے کے لیے اب مسلم عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسیمانند کے بیان کی روشنی میں سادھوی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ سادھوی اس وقت اے ٹی ایس پولیس کی حراست میں ہیں لیکن طویل عرصہ سے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
اے ٹی ایس کے مطابق سادھوی سخت ہندو نظریات کی حامل ہیں اور انہوں نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر گروپ کی تشکیل کی جس کا مقصد مسلم علاقوں میں اور عبادت گاہوں پر بم دھماکے کرنا تھا۔
مالیگاؤں میں سن دو ہزار آٹھ میں بم عید سے ایک روز قبل بم دھماکہ ہوا تھا جس میں پولیس نے اب تک بارہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تمام ملزمان سخت گیر ہندو نظریات کے حامل ہیں۔ سادھوی پر اس دھماکہ کی مبینہ طور پر سازش رچنے کا الزام ہے۔







