کشمیر میں صحافت کتنی مشکل

 کرفیو کے دوران پریس فوٹوگرافروں کو ’دشمن نمبر ایک‘ سمجھاگیا
،تصویر کا کیپشن کرفیو کے دوران پریس فوٹوگرافروں کو ’دشمن نمبر ایک‘ سمجھاگیا
    • مصنف, حبیب نقاش
    • عہدہ, سینئر فوٹو جرنلسٹ، سرینگر

پچھلے بیس سال سے کشمیر میں فورسز کے ہاتھوں صحافیوں کی مار پیٹ ایک معمول ہے۔ لیکن کوفت اُسوقت ہوتی ہے جب پولیس اور فورسز اہلکار ہماری تذلیل کرتے ہیں۔

ہم پر فقرے کسے جاتے ہیں اور گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔ سن ستانوے میں جب اُسوقت کے بھارتی وزیراعظم وادی کے دورے پر تھے، تو میں ان کی ایک تقریب میں جانے کے لیے آٹو رکشا میں سفر کر رہا تھا کہ سرینگر کے زیر و برج پر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے رکشا روکا اور تلاشی لینے لگے۔

ایک اہلکار کی نظر میرے کندھے سے لٹکے کیمرے پر پڑی تو اس نے یک لخت میری پشت پر لات ماری۔ مجھے لگا جیسے کمر ٹوٹ گئی۔ میں خاموشی سے رکشا میں واپس بیٹھنے لگا تو پولیس والے نےایک گندی گالی بکی۔ اس پر میں رکشا سے واپس اُترا اور ہمت کر کے اسے کہا:’دیکھئے صاحب آپ کو مارنے کا حکم تو ہے، لیکن گالی کیوں دے رہے ہو۔‘ میرا یہ کہنا تھا کہ درجنوں مسلح اہلکار مجھ پر ٹوٹ پڑے۔ میری داہنی آنکھ کے نیچے چار انچ کا گہرا زخم لگا اور سارا جسم لہولہان ہوگیا۔ بعد میں یہ مسئلہ مسٹرگجرال کے ساتھ اُٹھایا گیا تو پولیس افسروں نےمعافی مانگ کر معاملہ رفع دفع کر دیا۔

پچھلے بیس سال کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اُنیس سو نوّے کی دہائی کے اوائل میں جب پریس کالونی کے باہر بم دھماکہ ہوا تو ہم لوگ باہر نکلے اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کی کوشش کرنے لگے۔ اس پر بی ایس ایف کے بعض افسر وہاں پہنچے اور انہوں نے صحافیوں کی مارپیٹ کی۔ایک سینئر صحافی یوسف جمیل نے انہیں ٹوکا تو ان کو زد و کوب کیا گیا۔

حد تو یہ ہے ہر ہسپتال میں سادہ لباس میں پولیس کے دس سے پندرہ جاسوس ہوتے ہیں۔ جب ہم زخمیوں کی تصویریں اتارنے پہنچتے ہیں تو وہ لوگ نعرے بازی کرتے ہیں اور ہمارے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں یا جب ہم مارے گئے نوجوانوں کے جنازے کی تصویریں لیتے ہیں، تو اچانک پولیس جنازے پر فائرنگ کرتی ہے اور لاشوں کی بھی بے حرمتی کی جاتی ہے۔ اس پر ستم یہ کہ یہاں کے پولیس افسر یہ کہتے پھِرتے ہیں کہ ’تم فوٹوگرافروں نے ہی اتنے لوگوں کو مروایا، تم لوگ کیمرہ لے کر آتے ہو اور لوگ مارے جاتے ہیں۔‘

جب عام اہلکاروں کے سامنے ایک پولیس افسر یہ الزام عائد کرتا ہے تو پولیس میں ہمارے خلاف نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ سات جولائی کو جب پہلی بار سخت ترین کرفیو نافذ کیا گیا تو مقامی پولیس افسر نے پریس کالونی میں آ کر ہم کو دھمکی دی کہ ’جہاں تیس افراد مارے گئے وہاں اور دو ایک مارے جائیں گے تو کیا ہوگا۔‘

پچھلے دنوں جب سرینگر کے بیمنہ علاقہ میں ایک پولیس افسر نے جلوس منتشر کرنے کے دوران ایک خاتون کے ساتھ دست درازی کی تو یہ تصویر اخباروں میں شائع ہوئی۔اس پر پولیس افسر اہلکار آگ بگولہ ہوگئے۔

ایسے تودرجنوں واقعات گنوائے جاسکتے ہیں۔یہ سب پچھلے بیس سال سے ہوتا آیا ہے مگر اس بار ہم لوگوں کو’دشمن نمبر ایک‘ سمجھاگیا ہے۔ کرفیو پاس لے کر چلنے والا عام آدمی تو محفوظ ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ پولیس اور فورسز کو ہدایات ہیں کہ کسی بھی بہانے سے فوٹو گرافروں کی ہڈی پسلی توڑ دو۔

دراصل حکومت چاہتی ہے کہ جب روزانہ لوگ مارے جا رہے ہوں، لوگوں کو مار پڑ رہی ہو، ہسپتالوں میں زخمیوں کی چیخ و پکار جاری ہو، تو ہم لوگ یہاں کی جھیلوں میں مُرغابیوں کی تصویریں اُتاریں۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ہمیں معلوم ہے آج کل کام کرنے میں سو فی صد خطرہ ہے، مگر ہم کام کرتے ہیں۔ البتہ بیس سال میں کبھی بھی شام کو گھر جانے سے ڈر نہیں لگا تھا، دن بھر خطرات سے کھیلنے کے بعد شام کو گھر جانا سب سے خطرناک مرحلہ معلوم ہوتا ہے۔