بھارتی ووٹنگ مشینز ہیک کی جا سکتی ہیں

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنبھارت میں استعمال ہونے والی ووٹنگ مشینوں پر کئی بار پہلے بھی سوال اٹھ چکے ہیں

امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی تکنیک کا ایجاد کیا ہے جس سے بھارت میں استعمال ہونے والی الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کو ہیک کیا جا سکتا ہے۔

مشیگن یونیورسٹی کے سائنس داں اس تکنیک کو ووٹنگ مشین سے جوڑنے کے بعد موبائیل فون سے ایک میسیج بھیج کر اس کے نتائج بدلنے میں کامیاب رہے ہیں۔

لیکن بھارت میں انتخابی کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر پورا بھروسہ کیا جاسکتا ہے اور اس سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے لیے مشینوں کو حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے۔

ہندوستان میں انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور عام انتخابات کے لیے تقریباً چودہ لاکھ مشینیں استعمال ہوتی ہيں۔

مشیگن یونیورسٹی کے محقیقین نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو لگایا ہے جس میں اس نئی تکنیک کو ووٹنگ مشین سے جوڑتے ہوئے دکھایا گيا ہے۔

اس ریسرچ پروجیکٹ کے سربراہ الیکس ہالڈر کا کہنا ہے کہ اس تکنیک کی مدد سے موبائل فون کے ذریعے میسج بھیج کر اس کے نتائج بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ہالڈر مین نے بی بی سی کو بتایا ’ہم نے ایک ایسا نقلی ڈسپلے بورڈ بنایا تھا جو کہ اصل ڈسپلے بورڈ جیسا دکھتا تھا۔ اس کے نیچے ہم نے ایک مائیکرو پروسیسر اور بلیو ٹوتھ نصب کردیا۔ ہمارا نقلی ڈسپلے بورڈ ووٹوں کی کل تعداد پتہ کر کے اس کی جگہ غلط تعداد ظاہر کرتا ہے۔ یعنی فریب کرنے والے لوگ جو چاہیں وہ نتائج اس سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔‘

ہالڈر مین نے اس کے علاوہ ایک اور مائیکرو پروسیسر نصب کر کے دکھایا کہ کس طرح الیکشن اور ووٹوں کی گنتی کے دوران بھی نتائج آسانی سے بدلے جا سکتے ہیں۔

ہندوستان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز میں کسی سافٹ ویئر کا استعمال نہیں ہوتا ہے اور ووٹوں کی گنتی کمپیوٹر چپ کے ذریعے ہوتی ہے۔

بھارت میں نائب انتخابی کمیشن آلوک شکلا کہتے ہیں کہ چھیڑ چھاڑ کے لیے مشین کو حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے۔

’یہ صرف ایک مشین نہیں ہے بلکہ انتظامیہ کا ایک سکیورٹی نظام ہے جسے ہم استعمال کرتے ہیں۔ اس انتظام کے تحت کسی کے لیے مشین کو کھول پانا تقریباً ناممکن ہے۔ انتخاب سے پہلے امیدوار اور ان کے نمائندوں کے سامنے اس مشین کو رکھا جاتا ہے۔ انہیں اس پر اپنی مہر لگانے کی اجازت ہوتی ہے اور کوئی بھی اس مہر کو توڑے بنا اس مشین کو نہیں کھول سکتا ہے۔‘

لیکن ریسرچ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کاغذ اور موم کی موہر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ آسانی سے ہو سکتی ہے۔