کشمیر: ’اکثریت سفر کےحق سے محروم‘

سفری پابندیوں کے خلاف سرگرم کار کن
،تصویر کا کیپشنکشمیر میں لوگوں کو پاسپورٹ دینے سے انکار کرنے پر کارکنان نے مخالفت شروع کی ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

’ساٹھ ہزار کشمیریوں کو پاسپورٹ دینے سے انکار کیا جا رہا ہے جس کے باعث تقریباً چھہ لاکھ شہری متاثر ہوئے ہیں‘۔ یہ انکشاف انسانی حقوق کے معروف کارکن پرویزامروز نے سنیچر کو سفری حقوق کی بازیابی کے لیے معزز شہریوں، سیاسی و سماجی کارکنوں اور طلبا کی مشترکہ تنظیم ’ کیمپین فار رائٹ ٹو ٹریول‘ کے قیام کے موقع پر کیا۔

امروز کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے والوں کی اکثریت کو بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اور بسا اوقات حج پر جانے والے زائرین کو جہاز سے واپس اُتار لیا جاتا ہے۔

انہوں نے حکومت ہند پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں حکومت مخالف حلقوں اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کو پاسپورٹ دیا جاتا ہے اور وہ دوسرے ملکوں میں اپنی حکومتوں کی تنقید بھی کرتے ہیں۔

امروز کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم عاصمہ جہانگیر اور دوسرے لوگوں کو پاکستان ہندوستان آنے کی اجازت دیتا ہے اور یہاں آ کر وہ پاکستانی حکومت کے خلاف بولتے ہیں حتیٰ کہ فوجی زیادتی کی شکار مختاراں مائی کو تو امریکہ جانے کی اجازت دی گئی جہاں وہ سٹار بن گئیں۔

’لیکن حکومت ہند طلبا، پیشہ ور افراد، رشتہ داروں وغیرہ کو پاسپورٹ سے محروم رکھ رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہندوستان جمہوری ملک ہونے کے باوجود ڈرتا ہے کہ کہیں کوئی کشمیری بیرون ملک جاکر یہاں کی زمینی صورت حال کو ایکسپوز نہ کردے۔ اسی لیے ان لوگوں کو پاسپورٹ دیے جاتے ہیں جن سے انہیں یہ خطرہ لاحق نہیں ہوتا‘۔

پریس کانفرنس میں پرویز امروز کے ہمراہ سول سوسائٹی کے دیگر نمائندے بھی تھے۔ معروف معالج اور تبصرہ نگار ڈاکٹر ظفر مہدی نے اس موقع پر بتایا: ’میں ایک ڈاکٹر ہوں۔ سات سال پہلے سرکاری نوکری سے ریٹائر ہوگیا ہوں۔ مجھے پاسپورٹ نہیں دیا جا رہا۔ میرا قصور یہ ہے کہ حکومتی ادارے یا این جی اوز مجھے سیمینار میں بلاتے ہیں تو میں یہ کہتا ہوں کشمیریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ لیکن آج یہی بات عمرعبداللہ، مفتی سعید اور فاروق عبداللہ بھی کہتے ہیں‘۔

ڈاکٹر مہدی نے بتایا کہ یہ رویہ سراسر ہندوستانی آئین کی دفعہ بارہ کی خلاف ورزی ہے۔ اس دفعہ کے مطابق ہر بھارتی شہری کو کسی بھی ملک میں آنے جانے کا حق حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت سیدھے کیوں نہیں کہتا کہ وہ ہمیں بھارتی شہری تصور ہی نہیں کرتا ہے۔ اگر ہم قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں تو ہمیں کسی دوسرے ملک بھیج دیں ہم وہاں پناہ لے لیں گے‘۔

ایک سوال کے جواب میں پرویز امروز نے بتایا کہ فلسطین کوئی تسلیم شدہ ریاست نہیں ہے لیکن فلسطینی انتظامیہ کو اختیار ہے کہ وہ شہریوں کو پاسپورٹ دے۔ ’یہاں تو عجیب جمہوریت ہے۔ یہاں کے پولیس افسر پاسپورٹ حکام کو کہتے ہیں کہ پاسپورٹ پر ایکسیپٹ پاکستان یعنی پاکستان کے علاوہ لکھیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ کشمیریوں کو دی جانے والی اجتماعی سزا کا حصہ ہے‘۔

سیاسی کارکن زمردہ حبیب، اور دس سال قبل فوجی کارروائی میں ہلاک ہونے والے ایک وکیل کی بیوہ، مسعودہ پروین نے بھی نامہ نگاروں سے خطاب کیا۔ مسعودہ نے بتایا کہ ان کے خاوند کو انسانی حقوق کے کیس لڑنے کی پاداش میں بم سے اُڑا دیا گیا۔

’میرے دو بیٹے ہیں۔ انہیں تعلیم میں گولڈ میڈل ملا ہے۔ لندن کے ایک تعلیمی ادارے نے سکالرشپ دی تھی، تین سال ہوگئے پاسپورٹ نہیں مل رہا ہے۔ میں ایک بار بڑے بیٹے کو لےکر فاروق عبداللہ کے پاس گئی، تب وہ کشمیر کے وزیراعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا اسے پاسپورٹ کیا دینا، یہ تو دشمن کا بیٹا ہے‘۔

پرویز امروز نے بتایا کہ ان کی تنظیم پاسپورٹ کی عدم فراہمی کا یہ معاملہ عالمی اداروں خاص طور پر اقوام متحدہ کے سامنے اُٹھائے گی۔

قابل ذکر بات ہے کہ وزیراعلیٰ نے حالیہ دنوں میں اعلان کیا کہ سابقہ حکومتوں کے مقابلے میں ان کی حکومت پاسپورٹ کے معاملے میں فراخدل ہوگی اور شدت پسندوں کے رشتہ داروں کو بھی پاسپورٹ فراہم کیا جائے گا۔ ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ ’اس پالیسی کو پوری طرح عمل میں لانے کے لیے گراونڈ ورک ہورہا ہے‘۔