آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: ’نفرت کے بیانیے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا، سوائے ان لوگوں کے جو نفرت کا ایجنڈا چلا رہے ہیں‘
- مصنف, دیویا آریا اور وینیت کھرے
- عہدہ, بی بی سی ہندی
گزشتہ سال مئی میں جب دنیا بھر کے مسلمانوں نے عید الفطر منائی تو پاکستان میں کئی خواتین کو شدید صدمہ پہنچا تھا۔
ان کی تصاویر جو انھوں نے عید کے تہوار کے لیے تیار کی تھیں کے سکرین شاٹس اور یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز کو سرحد پار انڈیا میں دو افراد نے ان کی اجازت کے بغیر لائیو سٹریم کیا۔
رتیش جھا اور اُن کے ایک ساتھی جس کو وہ ’کیشو‘ کہتے ہیں، کی لائیو سٹریم اسلامو فوبک تبصروں سے بھرپور تھی۔ اسے انڈیا میں سینکڑوں لوگوں نے دیکھا۔
متعدد صارفین کی جانب سے اس سلسلے کی اطلاع دینے کے بعد یوٹیوب نے ان ویڈیوز اور اِسے نشر کرنے والے چینل کو ہٹا دیا۔ خواتین نے بعد میں کہا کہ وہ ’غیر محفوظ‘ اور ’خوف زدہ‘ محسوس کر رہی ہیں اور ان کی عید ’برباد‘ ہو گئی ہے۔
آٹھ ماہ بعد 23 سالہ مسٹر جھا کہتے ہیں کہ وہ ’اس وقت نفرت سے بھرے ہوئے تھے۔‘ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ان ہندو خواتین کا بدلہ لینا چاہتے تھے جن کی تصویریں انھوں نے سوشل میڈیا پر دیکھی تھیں۔ انھوں نے کیشو کے بارے میں کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
انڈیا میں حالیہ برسوں کے دوران خواتین کی ٹرولنگ - خاص طور پر ان خواتین کی ٹرولنگ جو انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کرتی ہیں، میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں آن لائن اور آف لائن دونوں طرح سے بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم کا ماحول بدتر ہو گیا ہے۔
اگرچہ تمام سیاسی جماعتوں اور نظریات کی حامی خواتین کو آن لائن ہراساں کیا جاتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے انداز اور ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے نوجوان ہندو قوم پرستوں کو مزید حوصلہ دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوٹیوب لائیو سٹریمنگ کے واقعے کے بعد خواتین کے ساتھ آن لائن بدسلوکی کے کئی واقعات پیش آئے۔ دو ایپس ڈویلپرز نے ایک فرضی ’نیلامی‘ میں مسلم خواتین کی تصاویر شیئر کیں جن کا مقصد ان کی تذلیل کرنا تھا۔
وزیر اعظم مودی اور بی جے پی پر تنقید کرنے والی ہندو خواتین کو بھی آڈیو ایپ ’کلب ہاؤس‘ پر مزاحیہ طورپر جعلی طریقے سے ’برائے فروخت‘ پیش کر دیا تھا۔ ان تینوں صورتوں میں حقیقی معنوں میں کوئی خاتون فروخت نہیں ہوئی تھی۔
شدید عوامی احتجاج کے بعد، پولیس نے دونوں ایپس کی ان ’برائے فروخت‘ پوسٹوں کے سلسلے میں نو افراد کو گرفتار کیا، ان تمام افراد کی عمریں 18 سے 26 سال کے درمیان ہیں، یہ زیادہ تر ایسے سوشل میڈیا گروپس میں سرگرم تھے جہاں اسلامو فوبک پیغامات باقاعدگی سے پوسٹ کیے جاتے تھے۔
ایک سینیئر پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ رتیش جھا کو بھی کلب ہاؤس کی فرضی نیلامی اور یوٹیوب لائیو سٹریم واقعے کے سلسلے میں پولیس کو دی گئی ایک شکایت میں نامزد کیا گیا ہے۔
ممبئی پولیس کے سائبر سیل کے سربراہ رشمی کرندیکر نے کہا کہ ’ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اگر وہ خود کو پیش نہیں کرتا ہے تو ان کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کریں گے۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ایک دوسرے سے الگ تھلگ نہیں ہیں۔ صحافی اور مصنفہ سنِگدھا پونم کہتی ہیں، ’میں اس کی وجہ ہندو متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی شدت پسندی کو قرار دوں گی۔ یہ خالص تعصب ہے جو ہندو معاشرے کی اندر کی گہرائی سے نکل رہا ہے۔‘
انتہائی دائیں بازو کا ماحولیاتی نظام
رتیش جھا کے اب ڈیلیٹ کیے گئے یوٹیوب چینل کے ہزاروں فالورز تھے جو ان کے شیئر کردہ مسلم مخالف مواد کو آگے پھیلاتے تھے۔ وہ اسلامی طور طریقوں کو نشانہ بنانے والے جارحانہ لطیفوں کو ’سیاہ مزاح‘ (بے حسی والے ظالمانہ لطیفوں) کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ خواتین کی ایسی تصاویر کی لائیو سٹریمنگ کا 'ٹک ٹاک یا انسٹا ریلز پر بے ضرر ویڈیوز‘ سے بھی موازنہ کرتے ہیں۔
رتیش جھا 14 سال کے تھے جب انھیں اپنا پہلا سمارٹ فون دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت انھوں نے جس مواد تک رسائی حاصل کی وہ دائیں بازو کی دنیا سے ان کا تعارف تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس پر میں نے میمز دیکھے، سیاستدانوں کی تقریریں سنیں جو چیخ رہے تھے کہ ہندو خطرے میں ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ متعصبانہ سیاسی بحثیں اور زہریلے بیانیے جنھوں نے مسلمانوں کو دشمن کے طور پر ’شناخت‘ کیا، نے انھیں آہستہ آہستہ ایک ’بنیاد پرست‘ نوجوان میں تبدیل کر دیا۔
رتیش جھا کہتے ہیں کہ ’آپ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ آپ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، اس لیے آپ تشدد کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے نوجوانوں کے متاثر ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ کینیڈا کے انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک ڈائیلاگ کی ایک تحقیق جو ملک میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے آن لائن رویے کا مطالعہ کرتی ہے، کا کہنا ہے کہ 'وبائی بیماری نے بنیاد پرستی کے لیے اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ لاکھوں لوگوں نے آن لائن زیادہ وقت گزارا ہے، ایک گرمجوشی والا ماحول بھی پیدا کیا ہے۔‘
ہندوستان کا دائیں بازو بھی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، بہت سے لوگ اب خود کو دو گروہوں میں تقسیم کر رہے ہیں: 'ٹراڈز' اور 'رائتاس۔‘
ٹراڈز، یا روایت پرست، زیادہ متشدد خیالات رکھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ بی جے پی بھی اب دائیں بازو کی جانب جھکاؤ نہیں رکھتی ہے۔ وہ دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے اپنے مخالفین یا ناقدین کو دائیں بازو کے ’رائتاس‘ کہتے ہیں۔
رائتاس کا کہنا ہے کہ وہ تشدد کی حمایت کیے بغیر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ابھیشیک بنیرجی، جو ایک دائیں بازو کے کالم نگار ہیں، کہتے ہیں کہ یہ بائیں بازو والوں کے درمیان تقسیم کی طرح ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’جیسا کہ سیاست اور اقتدار میں دایاں بازو ایک با اثر اور طاقتور نظریہ بن چکا ہے، اُن کی آواز بڑھ رہی ہے اور موجودگی بھی زیادہ نظر آرہی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
’ٹراڈز‘ - بائیں بازو سے بھی بڑھ کر متشدد بایاں بازو
ایک نوجوان دلت آدمی، جو صرف ایچ آر کے نام سے جانا چاہتا ہے، اس کے ٹویٹر ہینڈل کے ابتدائیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ٹراڈز کی دنیا میں کیسے آ گیا تھا۔ دلت (سابقہ اچھوت) ایک جابرانہ ہندو ذات پات کے نظام کی سب سے نچلی ذات کا نام ہے۔
مارچ سنہ 2020 میں، ایچ آر کو ایک انسٹاگرام گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی جس کا بیان کردہ مقصد ’ہندو مذہب کے بارے میں صحیح معلومات پھیلانا‘ تھا۔ اسے دعوت دینے والے شخص نے کہا کہ وہ ’مسلمانوں کے ساتھ آن لائن‘ بحث کرنے میں ایچ آر کی مہارت سے بہت متاثر ہوا ہے۔
اسے 14-15 سال کے بچوں کو گروپ میں شامل کرنے کو کہا گیا۔ ایچ آر کا کہنا ہے کہ وہ اس میں شامل ہونے پر خوش تھا کیونکہ اسے ہندو عقیدے پر ’فخر‘ تھا، لیکن نہ صرف مسلمانوں بلکہ دلتوں میں بھی مسلسل نفرت پھیلانے والے اراکین کی وجہ سے وہ جلد ہی ان لوگوں سے مایوس ہو گیا۔
انھوں نے ٹویٹر پر پیغامات کے ذریعے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان کا خیال تھا کہ دلت ہندو نہیں ہیں، ہندو انڈیا کی تعمیرِ نو کے لیے مسلم خواتین کا ریپ کرنا ٹھیک ہے اور یہاں تک کہ بچوں کے قتل کو بھی جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔‘
ایچ آر نے کبھی بھی اپنی ذات کی شناخت کو گروپ کے سامنے ظاہر نہیں کیا اور اس نے شمولیت کے چھ ماہ بعد اسے چھوڑ دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اب وہ ’ٹراڈز‘ کے سوشل میڈیا ہینڈلز کی اطلاع دے کر ان کے خلاف ’لڑائی‘ لڑ رہا ہے۔
ان خواتین میں سے ایک جن کی تصاویر جعلی نیلامی کے ایپس پر اپ لوڈ کی گئی تھیں، ثانیہ سید، جو کہ مصنفہ ہیں، کہتی ہیں کہ 'ٹراڈز نظریے سے تعلق رکھنے والے افراد مشتعل گروہ کی شکل میں کسی پر تشدد کرنے یعنی لنچنگ کی تعریف کرتے ہیں، مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کی مخالفت کرتے ہیں، جابرانہ ذات پات کے نظام میں یقین رکھتے ہیں، اور جدید خیالات والی اور آواز اٹھانے والی خواتین سے نفرت کرتے ہیں، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان۔‘
ثانیہ سید کہتی ہیں کہ انھیں ہراساں کرنے والوں نے انھیں اکثر آن لائن ٹراڈ گروپس میں شامل کیا تاکہ وہ ان کے بارے میں کیے گئے قابل اعتراض تبصروں کو دیکھ سکیں۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ جعلی نیلامی ایپ بنانے والا شخص ایک ٹراڈ گروپ کا حصہ تھا۔
ایک گہری تقسیم
مونا شرما، جو خود کو ’رائتا' بتاتی ہیں، کہتی ہیں کہ وہ اور دیگر دائیں بازو کی خواتین کو بھی آن لائن ٹراڈز نے اپنا نشانہ بنایا ہے کیونکہ وہ ان کے تصورات کے مطابق نہیں ہیں کہ خواتین کے ساتھ کیسے برتاؤ کرنا چاہیے۔
ان کے ساتھ آن لائن بدسلوکی کی گئی اور ان کے شوہر کی ذاتی معلومات کو افشاء کر دیا گیا، مونا شرما کا مزید کہا کہ وہ خود لبرل کو ٹرول کرتی ہیں اور ٹوئٹر پر ان کے ذریعے ٹرولنگ کا نشانہ بنتی ہیں، لیکن یہ ایک ’بے ضرر‘ سرگرمی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ٹراڈز کے لیے، جدید تعلیم یافتہ ہندو خواتین کو نشانہ بنانا کافی نہیں ہے۔‘
پولیس کو اس مضبوط ڈیجیٹل ’ماحولیاتی نظام‘ پر قابو پانے میں محدود کامیابی ملی ہے۔ ممبئی پولیس کے ایک سینئر افسر برجیش سنگھ کا کہنا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس پلیٹ فارمز پر موجود لاکھوں اکاؤنٹس کی نگرانی اور ان کا پتہ لگانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے جو غیر ملکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ سوشل میڈیا کی نفرت سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ سنِگدھا پونم کا خیال ہے کہ ہندوؤں کی بنیاد پرستی انڈیا کے سیکولرازم کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں رپورٹنگ کر رہی ہوں تو آپ حیران ہوں گے کہ عام لوگ کتنی بار پاکستان کو انڈیا کے لیے ایک ماڈل ملک کے طور پر پیش کرتے رہتے ہیں۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’ہندوؤں کے ایک بڑے طبقے میں یہ شدید احساس پایا جاتا ہے کہ انڈیا ہندوؤں کے لیے ہونا چاہیے (جس طرح پاکستان مسلمانوں کے لیے ہے)، اور وہ آج اس کا اظہار کرنے میں آزادی محسوس کرتے ہیں۔'
رتیش جھا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے اقدامات ’اخلاقی طور پر غلط‘ تھے لیکن کہتے ہیں کہ ان جیسے لوگوں کو ’استعمال‘ کیا جا رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں یہ احساس نہیں ہے کہ نفرت ہمارے دماغ میں کیسے جڑ پکڑتی ہے۔ اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا، سوائے ان لوگوں کے جو نفرت کا ایجنڈا چلا رہے ہیں۔‘