انڈیا: ریاستی اسمبلی کے رکن کو ریپ سے متعلق مذاق کرنے پر معافی مانگنا پڑی

انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک میں حزبِ اختلاف کے ایک سیاستدان نے ریپ سے متعلق مذاق کرنے پر معافی مانگی ہے۔

ریاست کرناٹک کی اسمبلی کے سپیکر وِشویشور کاگیری کے اسمبلی میں افراتفری سے متعلق ریمارکس کے جواب میں کانگریس کے رہنما کے آر رمیش کمار نے کہا تھا کہ 'جب آپ ریپ ہونے سے نہیں بچ سکتے تو لیٹ جائیں اور اس کا مزہ لیں۔'

کے آر رمیش کمار کے اس جملے پر سپیکر کاگیری اور چند دیگر اراکینِ اسمبلی نے قہقہے لگائے۔

تاہم اس معاملے پر خواتین ارکان کی مذمت اور غم و غصے کے بعد رمیش کمار کو معافی مانگنی پڑی۔ جمعے کو انھوں نے ریاستی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ 'کھلے دل سے' ہر اس شخص سے معافی مانگ رہے ہیں جسے ان کی بات سے تکلیف ہوئی۔

'میرا خواتین کی توھین کرنے یا اسمبلی کے وقار کو کم کرنے یا مذاق اڑانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میرے کوئی مزموم عزائم نہیں تھے۔'

کے آر رمیش کمار نے یہ متنازع جملہ جمعرات کو اسمبلی کے اجلاس کے دوران ادا کیا جب سپیکر نے اسمبلی کے اراکین کے غیر سنجیدہ رویے پر اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔

'رمیش کمار میں اب یہ محسوس کرتا ہوں کہ ہمیں اب اس صورتحال کو انجوائے کرنا چاہیے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اب صورتحال کو کنٹرول اور بہتر کرنے کی کوشش نہیں کروں گا۔ میں اب سب کو شور کرنے دوں گا۔'

حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور رمیش کمار کی کانگریس پارٹی کی خواتین ارکان نے اس بیان کو 'بے حس' قرار دیا اور اس کے خلاف احتجاج کی دھمکی دی تھی۔

بی جے پی کی رکن پورنیما سری نیواس کا کہنا تھا کہ 'جب ہم اسمبلی میں آتے تھے تو ہم رمیش کمار کو ان کی پارلیمانی فراست اور رکھ رکھاؤ کی وجہ سے ایک مثال کے طور پر دیکھتے تھے۔ لیکن اب یہ نظر آتا ہے کہ جیسے ان کے دل میں خواتین کے لیے کوئی احترام نہیں ہے۔'

یہ بھی پڑھیے:

پورنیما سری نیواس نے اسمبلی کے سپیکر وِشویشور کاگیری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ اس جملے پر ہنسے۔

کانگریس کی رکنِ اسمبلی روپا کالا ایم نے بھی مذمت کی 'وہ عورت جس کا ریپ ہوتا ہے ساری زندگی ذہنی عذاب سے گزرتی ہے۔ ریپ کو کسی دوسرے معاملے میں ایک تشبیہ کے طور پر استعمال کرنا غلط ہے۔'

جمعہ کو سپیکر نے خواتین اراکین کی جانب سے اس معاملے پر ریاستی اسمبلی میں بحث کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ رمیش کمار معافی مانگ چکے ہیں۔

'ہم سب خواتین کا احترام کرتے ہیں اور اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اس احترام میں کمی نہ آنے پائے۔ میرے خیال میں اس معاملے کو اٹھانے اور تنازع پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔'

اس دوران نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق کرناٹک میں ایک غیر سرکاری تنظیم نے رمیش کمار کے خلاف درخواست جمع کروائی ہے اور ریاست کے گورنر سے کہا ہے کہ وہ رمیش کمار کے خلاف قانونی کارروائی کی منظوری دیں۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ رمیش کمار کو اس طرح کے بیان کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

سنہ 2019 میں جب وہ اسمبلی کے سپیکر تھے تو انھوں نے اپنے خلاف کرپشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے اپنا موازنہ ایک ایسے شخص سے کیا تھا جس کا ریپ ہوا ہو۔

انھوں نے کہا تھا 'مجھے ایک مرتبہ ریپ کیا گیا تھا۔ لیکن ریپ کا نشانہ بننے والے کسی بھی شخص کی طرح مجھے بھی یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ جیسے مجھے متعدد بار ریپ کیا گیا ہو۔'

تاہم اپنی ہی جماعت کی ایک خاتون رکن کی جانب سے معافی کے مطالبے کے بعد انھوں نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی تھی۔

دلی میں سنہ 2012 میں ایک بس میں گینگ ریپ اور قتل کے واقعے کے بعد سے انڈیا میں خواتین پر جنسی تشدد ایک حساس اور بڑا موضوع بن چکا ہے۔ تاہم سکیورٹی کے انتظامات کے باوجود ریپ ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ ہر سال ریپ کے دسیوں ہزار نئے کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں خواتین کی تنظیمیں با اثر لوگوں بشمول سیاستدانوں کی جانب سے جنسی تشدد اور ریپ سے متعلق رجعت پسندانہ اور بے حس بیانات کی فوراً شدید مذمت کرتی ہیں۔ اس وجہ سے سوشل میڈیا پر ایسے بیانات کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد اکثر لوگوں کو معذرت کرنی پڑتی ہے۔

ایسے بیانات کے خلاف احتجاج اور آن لائن مہم بھی شروع کی جاتی ہیں جس میں پدر شاہی ذہنیت اور ریپ کا شکار ہونے والی خواتین ہی کو مورد الزام ٹہرانے کی مذمت کی جاتی ہے۔