ممبئی: گندے نالے سے ملنے والی نوزائیدہ بچی ہسپتال میں داخل

ممبئی میں ایک گٹر سے بازیاب کرائی جانے والی ننھی بچی کی مقامی ہسپتال میں دیکھ بھال جاری ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت سنبھل رہی ہے۔

راجواڑی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پانچ دن پہلے پیدا ہونے والی اس بچی کی حالت 'اچھی ہے' اور عملہ مسلسل اس کی صحت کا جائزہ لے رہا ہے۔

ممبئی پولیس کا کہنا ہے علاقے کے رہائشیوں کو گٹر میں پڑی ہوئی اس بچی کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب سڑک کے کنارے کچھ بلیاں جمع ہو کر زور زور سے غُرانے اور چلانے لگیں۔

پولیس تفتیش کر رہی ہے کہ مذکورہ بچی گندے پانی کے نالے تک کیسے پہنچی۔

پولیس کسی قسم کی افواہ کو ہوا دینے سے پرہیز کر رہی ہے، لیکن انڈیا میں نوزائدہ بچیوں کو لاوارث چھوڑنے کے واقعات کا ذمہ دار اکثر اس بات کو قرار دیا جاتا ہے کہ کئی لوگ لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔

انڈیا کی کل آبادی میں مردوں اور خواتین کا تناسب دنیا میں سب سے بُرا ہے۔ اگرچہ بہت سی ایسی بچیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی غیرقانونی طور پر کسی کلینک کے عملے کی مدد سے ضائع کر دیا جاتا ہے، تاہم پیدائش کے بعد بھی بچیوں کو مار دینے یا انھیں لاوارث چھوڑ دینے کے واقعات کوئی غیر معمولی بات نہیں۔

مزید پڑھیے:

حالیہ واقعے میں بچی کو اتوار 14 نومبر کو ممبئی کے ایک نواحی تھانے کے عملے نے اس وقت گندے نالے سے نکالا جب مقامی لوگوں نے پولیس کو اس حوالے سے بتایا۔ پولیس کی ٹیم کی سربراہی خواتین اہلکار کر رہی تھیں۔

جب پولیس مذکورہ مقام پر پہنچی تو اہلکاروں کو بچی گندے پانی کے نالے میں پڑی ملی۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ بچی کے تن پر صرف ایک برائے نام کرتہ تھا اور وہ گندے پانی میں لتھڑی ہوئی، بلک بلک کر رو رہی تھی۔

دو پولیس اہلکاروں نے گٹر کے اندر جھک کر بچی کو بحفاظت باہر نکال لیا اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر ہپستال لے گئے۔

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کانسٹیبل شیتل سوناوانے کا کہنا تھا کہ 'جب ہم نے بچی کو باہر نکالا تو شدید ٹھنڈ سے اس کے بازو نیلے ہو چکے تھے۔ہم نے بچی کو صاف کرنے کے لیے فوراً گرم پانی اور کوئی کپڑا لانے کو کہا۔'

اب ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

راجواڑی ہپستال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ودیا ٹھاکر نے بی بی سی مراٹھی سروس کو بتایا کہ 'ڈاکٹر مسلسل بچی کی صحت کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہم اگلے چند روز تک اس کا معائنہ کرتے رہیں گے۔'

اس واقعہ کی خبر آنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر دھواں دھار بحث جاری ہے۔ ممبئی پولیس نے سوشل میڈیا پر اپنے دو اہلکاروں کی تصویریں بھی شائع کی ہیں جن میں دونوں اہلکار سفید کپڑے میں لپٹی ہوئی نوزائیدہ بچی کو اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے ہیں۔

انڈیا میں بچیوں کو اس طرح کوڑے کرکٹ پر پھینک دینے کی خبریں معمول کی بات ہے۔

آج سے دو برس قبل شمالی رییاست اتر پردیش کے شہر بریلی میں ایک ایسی نوزائیدہ بچی ملی تھی جسے زندہ درگور کر دیا گیا تھا۔

اسی طرح، 2016 کی سردیوں میں دارالحکومت دلی میں بھی ایک نوزائدہ بچی ملی تھی جس کے تن پر کوئی کپڑا نہیں تھا اور وہ پلاسٹک کے ایک تھیلے میں پڑی ہوئی تھی۔

اور پھر جون میں اترپردیش میں ایک ملاح کو اس وقت بہت سراہا گیا تھا جب اس نے دریائے گنگا میں ایک کشتی پر پڑی ہوئی لاوارث بچی کو بچا لیا تھا۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انڈیا میں لڑکیوں پر لڑکوں کو ترجیح دینے کی اس لایعنی سوچ کی وجہ سے گذشتہ چند عشروں میں لاکھوں بچیوں کو ان کی پیدائش سے پہلے ہی مار دیا گیا۔

انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اس سوچ کو ’قومی بے شرمی‘ سے تعبیر کرتے ہوئے نوزائیدہ بچیوں کو بچانے کے لیے ایک ’جنگ‘ کا اعلان کیا تھا۔ اور سنہ 2014 کی گرمیوں میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ہم وطنوں سے اپیل کی تھی کہ وہ بیٹیوں کو قتل کرنا بند کریں۔