ایڈلٹری جرم نہیں، ٹوئٹر پر خوشی

انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملک میں 'ایڈلٹری' یا شادی شدہ افراد کے اپنے ساتھی کے علاوہ کسی دوسرے فرد سے جنسی تعلق رکھنے کے عمل کو جرم کے دائرے سے خارج کر دیا ہے۔

158 سال پرانے اس قانون کے خلاف اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ ’شوہر عورت کا مالک نہیں‘۔ یہ فیصلہ آتے ہی انڈین ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ 'ایڈلٹری' ٹرینڈ بھی کرنے لگا۔

یہ بھی پڑھیے

فوری طور پر زیادہ تر ٹوئٹر صارفین نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

صحافی ابھیجیت ماجومدار نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’بہترین فیصلہ۔ ایڈلٹری اب بھی طلاق کی وجہ بن سکتی ہے لیکن جرم نہیں ہے۔ شادی کا کانٹریکٹ اس بنا پر ختم کیا جا سکتا ہے لیکن ایک معاشقہ جس میں دونوں کی مرضی شامل ہو، ایک جرم کیسے ہو سکتا ہے؟ وِکٹورین دور کا ایک اور قانون بالآخر ختم۔ #Section497

بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی ایم کے پولٹ بیورو کی رکن کویتا کرشنن نے لکھا، ’ایڈلٹری کو جرائم کے دائرے سے خارج کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ ایڈلٹری کی بنا پر اب طلاق ہو سکتی ہے۔

’اس قانون کی، جو مردوں کو کسی اور کی بیوی سے تعلق کی وجہ سے مجرم قرار دیتا تھا، بنیاد یہ پدرشاہی سوچ تھی کہ بیوی شوہر کی ملکیت ہے اور اس کی اپنی کوئی مرضی نہیں۔ بہت اچھا ہوا۔‘

مصنف سنجُکتا باسو نے ملک کی سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا، ’آر ایس ایس کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ وہ تو بہت پریشان ہوں گے۔ ہم جنس پرستی، ایڈلٹری کو جرائم کے دائرے سے باہر کرنے سے خاندان، شادی، سیکس، محبت، سب میں صنفوں کے درمیان مسابقت پیدا ہو جائے گی۔ جو کہ دائیں بازو کی مذہبی قوم پرستی کے لیے اچھا نہیں۔‘

کچھ ٹوئٹر صارفین نے اس فیصلے کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔

ٹوئیٹر صارف امیت لاکھانی نے ٹویٹ کیا، ’اگر ایڈلٹری، جو بلاشبہ آپ کے شریک حیات کو ذہنی اور جذباتی اذیت دیتی ہے، ایک جرم نہیں، اس کے لیے سزا نہیں ہو سکتی تو پھر دوسری طرح کی ذہنی اذیتوں کو بھی جرم تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ انھیں بھی جرائم کے دائرے سے باہر کیوں نہیں کر دیتے۔‘

انڈیا کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ہم جنس پرستی کو بھی جرائم کے دائرے سے خارج کر دیا تھا۔ اس فیصلے کا بھی مجموعی طور پر خیرمقدم کیا گیا تھا۔