آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سیلاب سے پہلے گاؤں تھا سہرسا میں، اب ہے سوپول میں
- مصنف, نیرج سہائے
- عہدہ, سوپول سے بی بی سی ہندی کے لیے
سنہ 2008 کے بعد اس سال پھر بہار میں دریا کوسی میں سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے۔ انڈین ریاست بہار کے شمالی گاؤں سوپول میں لاکھوں افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں سب سے مشکل زندگی کوسی کے ایک گاؤں کے لوگوں کی ہے۔ یہاں رہنے والے سیلاب کے دوران کسی بلند مقام پر جاکر پناہ لے لیتے ہیں اور ہر بار سیلاب کے بعد انہیں کسی نئی جگہ بسنا پڑتا ہے۔
اس علاقے کے لوگ پانی اترنے کا انتظار کرتے ہیں۔ دریا کے بیچ میں جب ٹیلے ابھرنے لگتے ہیں تو یہ ان ٹیلوں پر گھر بساکر دوبارہ کھیتی کرنے لگتے ہیں۔
کوسی پر بنے مشرقی اور مغربی پشتوں نے ان کی قسمت میں بار بار اجڑنا اور بسنا لکھ دیا ہے۔
سوپول ضلع میں دریا کوسی کے بالکل بیچ میں بسے اس گاؤں کا نام ہے مناٹولا کھوکھناہا۔
سیلاب نے تین بار بدلا گاؤں کا پتہ
اسی گاؤں میں رہنے والے شری پرساد سنگھ کو 60 سال میں 16 بار اپنا گھر نئی جگہ بسانا پڑا۔ جہاں وہ پیدا ہوئے تھے وہ علاقہ اب دریا میں ڈوب چکا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ گاؤں مغرب سے مشرق کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق گاؤں پہلے سہرسا ضلع میں تھا۔ اس کے بعد مرونا ڈویژن میں آ گیا اور اب سوپول ضلع میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی گاؤں کے 80 سالہ بزرگ رام کرشن پرساد بتاتے ہیں کہ وہ اب تک نو مرتبہ اجڑ اور بس چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ایک بار 13 سال تک ایک ہی جگہ رہ پائے اور وہ کسی ایک جگہ رہنے کا سب سے لمبا عرصہ تھا۔
مناٹولا کھوکھاناہا گاؤں میں دس ایکڑ کے ٹیلے پر گیہوں اور دھان کی فصلیں اگا کر زندگی بسر کرنے والے تقریباً 500 سے زیادہ خاندانوں کے زیادہ تر مرد دلی اور پنجاب میں مزدوری کرتے ہیں۔
کبھی دوبارہ بسائے نہیں گئے
دراصل سنہ 1954 میں کوسی پر بنے مشرقی اور مغربی پشتوں نے دریا کا بہاؤ بدل دیا جو کہ سیلاب کی بڑی وجہ ہے۔
لیکن ایسا کرنے کے لیے جن لوگوں کو اپنی زمین سے ہٹایا گیا انہیں دوبارہ کہیں اور آج تک نہیں بسایا گیا۔
حکومت نے ان لوگوں کو جہاں زمین دی وہاں کے مقامی طاقتور افراد نے انہیں بسنے نہیں دیا۔
مناٹولا کھوکھناہا گاؤں ہر سیلاب کا پانی اترنے کے بعد نئی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اس علاقے کے لوگوں کی پریشانی کا اب تک کوئی حل سامنے نہیں آیا ہے۔