اترپردیش کے ووٹروں کا وزیر اعظم مودی کو پیغام

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

تو آخر کار انڈیا کی پانچ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ختم ہو ہی گئے۔ عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ نتائج کی پیشین گوئی کرنے والے ایگزٹ پول انتخابات مکمل ہونے کے بعد ہی کیے جائیں تو بہتر ہوگا!

ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی تقریباً تمام ایگزٹ پول بالکل غلط ثابت ہوئے اور جائزے کرنے والوں کے لیے ووٹروں کا واضح پیغام شاید یہ ہے کہ بھائی آپ کو جو بھی پیشین گوئی کرنی ہے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد ہی کریں، ورنہ پھر آپ منہ چھپاتے پھرتے ہیں اور وہ ہمیں اچھا نہیں لگتا۔

ووٹروں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی ایک واضح پیغام دیا ہے: 'اب آپ اتر پردیش میں حکومت بنائیے یا رام مندر، فیصلہ خود آپ کو کرنا ہے، ہم نے تو جتنی سیٹیں آپ کو دے سکتے تھے دے دی ہیں، بس کہیں ریاستی اسمبلی کی تمام رونقیں ختم نہ ہو جائیں اس لیے دو چار لوگ دوسری پارٹیوں کے بھی بھیج دیے ہیں، تھوڑی ورائٹی ہو جائے گی اور آپ کا دل بھی لگا رہے گا۔'

اب آپ خوب تعداد میں شمشان گھاٹ بھی بنائیے اور قبرستان بھی، لیکن کوشش یہ کیجیے کہ وہاں بے وجہ اور قبل ازوقت جانے کی ضرورت نہ پڑے۔ آپ عید پر مسلمانوں کو بھی بجلی دے دیجیے اور ہندوؤں کو بھی، پھر یہ نوبت نہ آنے پائے کہ دیوالی کے موقع پر ملک میں کوئی بھی گھر ایسا ہو جہاں چراغاں نہ ہو، اور لوگ اس وجہ سے دیے اور موم بتیاں نہ جلائیں کہ بجلی نہیں تھی!

ایک ایسی ریاست تعمیر کر دیجیے کہ پھر کبھی کسی وزیراعظم کو یہ کہنے پر مجبور نہ ہونا پڑے کہ بیس فیصد اقلیت کے لیے اکثریت کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ آپ عید پر بھی سب کو بجلی دیجیے اور ہولی پر بھی، آپ مسلمان کی لڑکی کو بھی کمپیوٹر بانٹیے اور ہندو کی لڑکی کو بھی، اور ہاں دلتوں کی لڑکیوں کو مت بھول جائیے گا۔ اب تولگتا ہے کہ انھوں نے اپنی رہنما مایاوتی کا دامن چھوڑ کر آپکا ہاتھ پکڑ لیا ہے۔

اگر مناسب سمجھیں تو بس رام مندر بھی بنوا ہی دیجیے، نہیں بنوانا تو صاف لفظوں میں کہہ دیجیے۔ اب وفاق میں بھی آپ کی حکومت ہے اور ریاست میں بھی، اگلے انتخابی منشور میں بس یہ جملہ شامل نہیں ہونا چاہیے کہ بی جے پی رام مندر کی تعمیر کے وعدے پر قائم ہے!

اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اکھیلیش یادو کے لیے یہ پیغام ہے کہ گھر کی لڑائی گھر میں ہی نمٹا دی جائے تو اچھا رہتا ہے۔ اب آپ یہ فیصلہ کر لیجیے کہ آپکو اپنے والد اور سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو کے ساتھ مل کر سیاست کرنی ہے یا الگ، لیکن جو کرنا ہے کر ڈالیے، اگر اختلافات ختم ہوسکتے ہیں تو کر ڈالیے اگر نہیں تو اپنا الگ راستہ چنیئے، اورنگزیب کی مثال آپ کے سامنے موجود ہے۔ باپ بیٹے اور چچا میں جنگ ہو، اور کسی کو یہ سمجھ نہ آ رہا ہو کہ کون کس کو پارٹی سے نکال رہا ہے، تو وہ ہی ہوتا ہے جو ہوا ہے۔

راہل گاندھی کے لیے بھی ایک پیغام ہے لیکن اس کا کیا ذکر کریں، وہ تو جس ریاست میں بھی جاتے ہیں وہاں کے عوام انھیں واضح پیغام دیتے ہیں لیکن وہ سنتے کہاں ہیں! یہ ایک آخری کوشش ہے، بھائی سلطنت تباہ ہو رہی ہے اب ملک میں کانگریس کی حکومت ڈھونڈنا اتنا ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے جتنا اترپردیش میں کانگریس کا وجود ڈھونڈنا، اب آپ بھی فیصلہ کر لیجیے کہ پارٹی کی قیادت کون کرے گا، اگر آپ کو کرنی ہے تو کانگریس پارٹی کے صدر کی کرسی سنبھالیے، وقت نکال کر پارلیمان بھی آیا کیجیے، اگر نہیں تو کسی اور کو کرنے دیجیے، لیکن جو کرنا ہے بس کر گزریے، وقت بہت کم رہ گیا ہے۔

اتر پردیش میں مسلمان اور ہندو سڑکوں پر شانہ بہ شانہ چلتے ہیں، گاؤں محلوں میں پاس پاس رہتے ہیں لیکن اس الیکشن میں شاید ہندو ووٹروں نے مسلمانوں کو بھی ایک پیغام دیا ہے۔ مسلمان اس امیدوار کو جتانے کی کوشش کریں گے جو بی جے پی کو ہرا سکتا ہے تو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایک ووٹ مسلمان کا ہے تو چھ ہندوؤں کے! آپ بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کیجیے، اگر ممکن ہو تو اس چکر سے باہر نکل جائیے۔

ہر الیکشن میں ووٹر کچھ پیغام دیتے ہیں لیکن سنتا کون ہے، اور سنیں بھی کیوں، الیکشن ووٹ دینے کے لیے ہوتا ہے پیغام دینے کے لیے نہیں!