'ماں نہیں رہی، اب کبھی کانپور نہیں جاؤں گا'

کانپور کے ٹرین حادثے میں بچ جانے والے مسافروں نے اس واقعے کو اس قدر محسوس کیا ہے کہ وہ صدمے میں ہیں، اعصابی تناؤ کا شکار ہیں اور اس خوفناک منظر کو بھلا نہیں پا رہے ہیں۔

'اندور پٹنہ ایکسپریس' ٹرین کا حادثہ اتوار کی علی الصبح کانپور کے پاس پیش آیا تھا جس میں اب تک 142 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیف ہوچکی ہے جبکہ تقریبا پونے دو سو افراد زخمی ہیں۔

اس میں بچ جانے والے کچھ مسافر پیر کی صبح پٹنہ پہنچے تو ان سے مقامی صحافی نیرج سہائے نے بات کی۔

ضلع چھپرہ کے رہنے والے ونود شاہ اندور سے پٹنہ آ رہے تھے۔ اس حادثے میں ان کے پاؤں اور بازو پر چوٹیں آئی ہیں، لیکن ان کی اصل تکلیف کے سامنے یہ زخم بے معنی ہیں۔ حادثے میں انھوں نے اپنی ماں کانتی دیوی کو کھو دیا ہے۔

ونود نے اپنے آنسو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا: 'میں اور ماں ایس -3 کوچ میں تھے۔ وہ اب نہیں رہیں۔ جس کے ساتھ ایسا حادثہ ہوا ہو وہ کبھی کانپور کی طرف دیکھے گا بھی نہیں۔'

سیتامڑھی میں رہنے والے آنند مہتو اس ٹرین میں اجیّن سے سوار ہوئے تھے۔ ان کے مطابق اس سفر کا آغاز ہی گڑبڑ طریقے سے ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا: 'اجیّن سے گاڑی کے چلنے کے بعد ہی ایک بھینس کٹ گئی تھی۔ پھر کانپور سے 60 کلومیٹر پہلے ہی صبح کے تین بجے یہ حادثہ ہو گیا۔ دو بوگیوں کا تو پتہ ہی نہیں چل پا رہا تھا۔ یوں سمجھ لیجیے کہ ہم لوگ موت کے کنویں سے بچ کر آ رہے ہیں۔'

ٹرین حادثے کے ایک اور گواہ رضوان اپنے خاندان کے سات ارکان کے ساتھ ٹرین کے ایس -5 کوچ میں سوار تھے۔

رضوان کا تعلق ضلع بانکا سے ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ حادثے کے بعد ان کا نصف کوچ ٹریک پر تو نصف کھیت میں تھا۔ 'اچانک زلزلے جیسا لگا۔ گیٹ نہیں کھل رہا تھا تو کھڑکی سے باہر نکلے۔'

رضوان نے کہا: 'وہاں ہاہاکار مچی ہوئی تھی۔ بہت سے لوگوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ ہم سرکاری بس سے کانپور آئے اور پھر اب کسی طرح پٹنہ پہنچے ہیں۔'

داناپور کی رہائشی انجنی سنگھ کے بھی تاثرات کچھ ایسے ہی تھے۔ وہ خود کو خوش نصیب مانتی ہیں کہ وہ اور ان کی ماں اس حادثے میں بال بال بچ گئیں۔

اس دردناک حادثے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انڈیا میں ریل آپریشنز کو کس حد تک درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مسافروں کو محفوظ سفر مہیا کرنا ریل انتظامیہ کے لیے ایک ایسا چیلنج ہے جس سے نمٹنا بہت مشکل کام ہے۔