BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 January, 2007, 02:37 GMT 07:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
' واٹر' اندھیرے سے روشنی تک کا سفر

دیپا مہتہ کی فلم ' واٹر ' کو آج آسکر ایوارڈ کی غیر ملکی زمرے کی ٹاپ پانچ فلموں میں جگہ مل گئی۔یہ فلم کناڈا سے نامزد ہوئی تھی۔

انڈیا سے نامزد فلم ' رنگ دے بسنتی ' کو جیوری نے پہلے ہی باہر کر دیا۔ جیوری نے رنگ دے بسنتی میں نئی نسل کا بدعنوانی کے خلاف جنگ اور وطن دوستی کے جذبہ کے بجائے بیواؤں پر ہونے والے مظالم اور ان کی بے رنگ زندگی پر مبنی فلم کو ترجیح دی۔

یہ فلم بیواؤں کی زندگی پر مبنی ہے۔ ہندو دھرم میں آج بھی بیواؤں کو جینے کا حق نہیں دیا جاتا۔

آج بھی بہت سے دیہی علاقوں میں کم عمر میں لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی ہے ۔ اور اگر ان کا شوہر مر جاتا ہے تو انہیں بیواؤں کے آشرم میں لا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جہاں ان کے بال کاٹ دیئے جاتے ہیں اور انہیں زمین پر سلا کر روکھا سوکھا کھانا دیا جاتا ہے تاکہ ان کے جذبات نہ ابھریں ایک طرح سے انہیں جیتے جی مارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

دیپا مہتہ نے یہ فلم پہلے سن تین ہزار میں بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے لئے انہوں نے شبانہ اعظمی اور نندیتا داس کو سائن کیا دونوں نے فلم کے لئے اپنے بال تک کٹوا لئے تھے اور فلم کی شوٹنگ کے لئے وہ بنارس پہنچ گئیں لیکن ہندو شدت پسند تنظیموں نے اس کی سخت مخالفت کی اور دیپا کو واپس آنا پڑا۔

سن دو ہزار چار میں ایک بار دیپا نے کوشش کی لیکن اس مرتبہ انہوں نے اس کے لئے اداکارہ لیزا رے ، اداکار جان ابراہام اور سیما بسواس کا انتخاب کیا اور اپنی فلم کو سری لنکا میں فلمانے کا فیصلہ کیا۔

فلم ڈھائی ماہ میں مکمل کر لی گئی۔گزشتہ برس ٹورنٹو فلم فیسٹیول میں یہ فلم دکھائی گئی جہاں لوگوں نے اس کی بہت تعریف کی۔ اس کے بعد کئی اور فلم فیسٹیول میں ناظرین نے اس فلم کودیکھا۔

انڈیا میں آج تک اس فلم کی نمائش نہیں ہو سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ اب اس فلم کی نمائش انڈیا میں متوقع ہے لیکن یہاں ایک بار پھر ہندو فرقہ پرست تنظیموں کی مخالفت کا خطرہ درپیش ہے۔

بی بی سی نے اس فلم کے دو اداکاروں جان ابراہام اور سیما بسواس سے اسی سلسلہ میں گفتگو کی۔

جان کا کہنا ہے کہ انہیں اس خبر سے خوشی نہیں بلکہ فخر محسوس ہو رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ فلم دیپا کی ہے کیونکہ وہ ایک انتہائی سلجھی ہوئی اور ذہین ہدایت کار ہیں جنہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ انہیں اپنے موضوع کے ساتھ کس طرح انصاف کرنا ہے۔

فلم میں جان کا نام نارائن ہے۔ جو ایک سیدھا سادا نوجوان ہے وہ بیوہ کلیانی سے پیار کرنے لگتا ہے۔

جسم ، دھوم ، زندہ ، گرم مسالہ جیسی فلموں میں کام کرنے کے بعد جان نے دیپا کی فلم کا انتخاب کیسے کیا۔ اس پر جان کا کہنا تھا کہ انہیں اس فلم کی سکرپٹ بہت پسند آئی تھی۔ جان کہتے ہیں کہ وہ ہر طرح کا کردار کرنا چاہتے ہیں اس لئے ایکشن ، کامیڈی کے ساتھ وہ سنجیدہ قسم کی فلم بھی کر رہے ہیں۔

جان کا کہنا ہے کہ ’ فلم کا انتخاب کرتے وقت ان کے ذہن میں یہ نہیں تھا کہ یہ فلم آسکر تک پہنچ جائے گی۔ انہیں افسوس ہے کہ فلم انڈیا سے نامزد نہیں ہوئی‘۔

جان دیپا کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ ان کے مطابق دیپا اداکاروں کو سمجھتی ہیں اور انہیں اداکاری کرنے کا کھل کر موقع دیتی ہیں۔

جان یہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اگر واٹر میں انہوں نے اداکاری کی ہے تو اس کا سہرا بھی دیپا کے سر ہی جاتا ہے۔

جان کمرشیل سنیما اور سنجیدہ سنیما کے درمیان کوئی لائن کھینچنا نہیں چاہتے۔ ان کے مطابق فلم اچھی ہوتی ہے یا بری بس۔

جان اس وقت نو اسموکنگ ، سلام عشق ، کے علاوہ امتیاز علی اور ناگیش ککنور کے ساتھ فلمیں کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ واٹر شاید ان کی اداکارانہ زندگی کا ایک اچھا موڑ ہے اور ایک نئے باب کی شروعات۔

جان کو اپنے پرستاروں پر بھروسہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فلم اچھی ہو یا بری ناظرین نے انہیں ہمیشہ سراہا ہے اور اسی لئے اب وہ ان کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے اچھی اور بہترین کہانیوں کا ہی انتخاب کریں گے۔

پیر کی ہی صبح ازبکستان سے فلم نو اسموکنگ کی شوٹنگ کر کے واپس آئے جان ، آسکر ایوارڈ فنکشن میں جانے کی تیاریاں بھی کر رہے ہیں۔

سیما بسواس فلم واٹر میں شکنتلا نامی بیوہ کا اہم رول کر رہی ہیں فلم میں ان کی بہترین اداکاری کوکناڈا میں ' جمی ایوارڈ ' سے نوازا جا چکا ہے۔

شیکھر کپور کی فلم بینڈیت کوئین میں حقیقی ڈاکو پھولن دیوی کا کردار کرنے والی سیما بسواس نے بی بی سی سے طویل گفتگو میں بتایا کہ انہیں یہ رول کیسے ملا۔

سیما کہتی ہیں کہ دیپا جب سن دو ہزار تین میں شبانہ کے ساتھ فلم بنانے جا رہی تھیں تب انہوں نے ایک چھوٹے رول کی پیشکش کی تھی لیکن اس وقت میں تھیئٹر میں مصروف تھی اس لئے نہ کہہ دیا لیکن قسمت میں ایک اچھی اور کامیاب فلم میں کام کرنا لکھا تھا۔

فلم میں سیما نے بہت کم مکالمے کہے ہیں۔ سیما کہتی ہیں انہیں زیادہ تر اپنی آنکھوں اور چہرے کے تاثرات سے اپنے جذبات کا اظہار کرنا تھا۔

فلم کی بیوہ شکنتلا 'کرم ' میں بھروسہ رکھتی ہے اس لئے وہ آشرم کی تمام بیواؤں کا ساتھ دیتی ہے۔

سری لنکا میں ڈھائی مہینوں کی شوٹنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے سیما کہتی ہیں کہ پورا یونٹ ایک خاندان کی طرح رہتا تھا۔ سیما کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب تک بیس یا اکیس فلمیں کی ہیں لیکن انہوں نے دیپا کی طرح ایسا کوئی ہدایت کار کو نہیں دیکھا جو بڑے سٹار اور جونیئر آرٹسٹ سب کو یکساں نظر سے دیکھتا ہو۔

سیما کے لئے تو ایوارڈ فلم کی شوٹنگ کے دوران دیپا نے انہیں دے دیا۔ سیما بتاتی ہیں کہ فلم کی شوٹنگ ختم ہونے کے بعد دیپا ان کے پاس آئیں اور کہا کہ ’تم نے تو میری شکنتلا کو زندہ کر دیا ‘۔

فلم واٹر کا وہ کون سے منظر سیما کو سب سے زیادہ پسند ہے اس پر سیما کہتی ہیں کہ فلم کا آخری منظر سب سے زیادہ دل کو چھو جاتا ہے اور شاید کہانی کا اختتام اس سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا۔

کلیانی یعنی لیزا رے جس سے جان محبت کرتا ہے فلم میں مر جاتی ہے اور فلم کے آخر میں جسن ٹرین میں بیٹھ کر جاتا ہے اور شکنتلا اسے وہ سات سالہ بیوہ ' سرلا ' اس کے ہاتھوں میں تھماتی ہے کہ وہ اسے اس روشنی بھری جگمگاتی دنیا میں لے جائے۔ دو ہاتھ آگے بڑھتے ہیں اور معصوم بچی کو اٹھا لیتے ہیں۔

سیما کو افسوس ہے کہ آج لوگ بم دھماکوں ، تشدد اور بدعنوانیوں کی تو بات کرتے ہیں لیکن کوئی ان زندہ درگور عورتوں کے مسائل کی بات نہیں کرتا۔

’دیپا نے ایک کوشش کی ہے اور وہ اس میں کامیاب ہوئی ہیں لیکن اصل کامیابی تو تب ہو گی جب سماج میں بیواؤں کو انصاف ملے گا‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد