BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 December, 2005, 17:46 GMT 22:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پطرس کی یاد میں ویب سائٹ

پروفیسر احمد شاہ پطرس بخاری
پروفیسر احمد شاہ پطرس بخاری
اُردو کے منفرد مزاح نگار، انگریزی کے زبردست انشاء پرداز، ادب کے فقیدالمثال استاد اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے اوّلین مُستقل مندوب احمد شاہ پطرس بخاری کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے انکی مادرِ علمی یعنی لاہور کی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی یوں تو کچھ نہ کچھ کرتی ہی رہتی ہے لیکن اب اس ادارے نے واقعی ایک ایسا کارنامہ کر دکھایا ہے جو وقت کا ایک اہم تقاضہ تھا۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی نے پطرس بخاری کے نام سے ایک مستقل ویب سائٹ کا اجراء کیا ہے جس میں ان کے مضامین، تقاریر، تصاویر اور کچھ نایاب خطوط موجود ہیں جو نہ صرف پطرس کے مداحوں بلکہ محققین کے لیے بھی ایک انمول خزانہ ہیں۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی عمارت

گورنمنٹ کالج لاہور سے پطرس بخاری کا تعلق بہت گہرا تھا۔ وہ 1916 میں اس کالج میں داخل ہوئے اور 1922 میں انھوں نے یہاں سے انگریزی میں ایم ۔ اے کیا، جس کے فوراً بعد وہ اسی کالج میں انگریزی کے لیکچرار مقرر ہوگئے۔

1925 میں پطرس انگریزی ادب کی اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور دو برس تک کیمبرج میں زیرِ تعلیم رہے۔ لاہور واپس آکر انہوں نے اپنی پسندیدہ درسگاہ گورنمنٹ کالج میں پروفیسر کا عہدہ قبول کر لیا اور بارہ برس تک تشنگانِ ادب کو اپنے علم و ادب کی سبیل سے پیالے بھر بھر پلاتے رہے۔

حیاتِ پطرس
1898 یکم اکتوبرکو پشاور میں پیدائش
1916 گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ
1922 انگریزی ادب میں ایم۔ اے کیا
1923 زبیدہ ونچو نامی کشمیری نژاد خاتوں سے شادی
1925 انگلستان روانگی، کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ
1927 گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی ادب کی پروفیسری
1939 آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت
1941 ڈائریکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو
1947 پرنسپل گورنمنٹ کالج لاہور
1951 اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب
1954 اقوامِ متحدہ میں سکیرٹری جنرل کے نا ئب
1958 5 دسمبرکو نیو یارک میں وفات اور بعد میں وہیں تدفین

پطرس کے مضامین نامی وہ مختصر سی کتاب 1927 میں شائع ہوئی تھی جو آج تک ایک ترو تازہ گلُ دستے کی طرح ہر ادب شناس کے گھر میں مہک رہی ہے لیکن بھارت کے مزاح نگار کنہیا لال کپور نے ایک بار کیا خوبصورت بات کہی تھی کہ ’پطرس کا اصل کارنامہ وہ چند مضامین نہیں ہیں جو کتابی شکل میں چھپ کر سامنے آئے بلکہ وہ بے شمار شاگرد ہیں جِن میں انھوں نے علم و ادب کی آگہی پیدا کی اور جو پاک و ہند کے گوشے گوشے میں ان کا بصیرت افروز پیغام لے کر پہنچے‘۔

آج انہی شاگردوں کے شاگرد اور آگے پھر ان کے شاگرد، اپنے استادوں کے استاد کا نام روشن کر رہے ہیں۔ گورنمنٹ کالج کی جانب سے اس ویب سائٹ کا اجراء پطرس بخاری کے پوتے ایاز بخاری کے دم قدم سے ممکن ہوا جنہوں نے پطرس کی بہت سی نایاب تصویریں، اہم خطوط اور غیر مطبوعہ تحریریں اس ویب سائٹ پر اشاعت کے لیے پیش کی ہیں۔

پطرس بخاری کے پوتے ایاز بخاری

پطرس کے مدّاح اب اُن تقریروں کا متن بھی پڑھ سکیں گے جو انہوں نے اقوامِ متحدہ میں کی تھیں اور اُن انگریزی تحریروں سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے جِن میں نیم مزاحیہ روزنامچوں سے لیکر فلم ایڈیٹنگ جیسے تکنیکی موضوع پر لکھے ہوئے سنجیدہ مضامین تک شامل ہیں۔

اس ویب سائیٹ کا پتہ ہے www.patrasbokhari.com

اسی بارے میں
مرحوم کی یاد میں
04 December, 2003 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد