جدہ: موسیقی کی تقریب پر چھاپہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی شہر ریاض میں پاکستانیوں کی موسیقی کی ایک تقریب کے دوران ایک ’متوع‘ یا سعودی پولیس کے مذہبی شعبے کے ایک اہلکار نے ہال میں گھس کر ایک گٹار بجانے والے کو کالر سے پکڑ لیا اور اسے گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں ڈال لیا۔ سعودی عرب میں پہلی مرتبہ ایسی پرفارمنس کا انعقاد جدہ میں پاکستانی قونصل خانے نے سعودی عرب کی 72ویں سالگرہ کے موقع پر کیا تھا اور اس کے لیے مقامی حکومت سے باقاعدہ طور پر اجازت بھی لی گئی تھی۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت اس تقریب میں تقریباً دو ہزار پاکستانیوں کے علاوہ پاکستانی قونصل جنرل اور پاکستانی سفارتخانے کے دیگر اعلٰی اہلکاروں کے اہل خانہ بھی شریک تھے۔ قریۃ المثال نامی یہ ہال جدہ کے نواح میں واقع ہے۔
پاکستان سے جنون گروپ خاص طور پر اس تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان سے آیا تھا۔ پاکستانیوں کی منعقد کی گئی اس تقریب میں ایک عرب شاعر بھی اپنی شاعری سنانے کے لیے شریک ہوئے تھے۔ مکہ گورنریٹ نے لوک موسیقی کی اس تقریب کے لیے خصوصی اجازت نامہ جاری کیا تھا۔ جس وقت متوع ہال میں گھسا اس وقت سٹیج پر ایک پاکستانی نژاد آصف گٹار بجا رہا تھا۔ پولیس اہلکار ہال میں موجود گارڈز کو دھکا دیتا سٹیج پر جا پہنچا اور آصف کو کالر سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا ہال سے باہر لے گیا۔ جب اس کو بتایا گیا کہ اس تقریب کی باقاعدہ طور پر اجازت لی گئی ہے تو اس نے کہا کہ اسے تحریری اجازت نامہ دکھایا جائے۔ پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق جب اسے اجازت نامہ دکھایا گیا تو اس کا کہنا تھا ’ امیر نے ایسے کام کی اجازت کیسے دے دی جو منکر ہے‘۔ اس کو بتایا گیا کہ اس تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے خاندان مناسب لباس میں ہیں اور یہ تقریب سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر منعقد کی گئی ہے۔ آخر کار اپنے ادارے کے اعلٰی افسران سے بات چیت کے بعد متوع واپس چلا گیا اور آصف کو بھی چھوڑ دیا۔ پروگرام دوبارہ شروع ہوا اور جمعہ کی صبح تک جاری رہا۔ ابھی یہ تحقیقات کی جارہی ہیں کہ یہ متوع کس اختیار کے تحت ہال میں گھسا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||