اسرائیل میں میڈونا کی زیارت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہودیوں کے نئے سال کے آغاز پرگلوکارہ میڈونا بدھ کو اسرائیل پہنچ گئی جہاں وہ ایک ’روحانی اجتماع‘ میں شریک ہوں گی۔ میڈونا اور ان کے اہلِ خانہ ان دو ہزار طلباء کے اجتماع میں شریک ہوں گے جس کا تعلق یہودیوں کے ہاں پائے جانے والی تصوف کی قسم سے ہے اور جس کی تعلیم مذہبی وابستگی کے بغیر دی جاتی ہے۔ میڈونا کی ایسے اجتماعات میں شرکت سے تصوف کی یہ قسم جسے کابلا کہتے ہیں کافی مشہور ہو گئی ہے۔ کابلا وہ باطنی نظام ہے جو مقدس صحائف کی صوفیانہ تفسیر پر مبنی ہے اور جس میں ایک خاص طرح کی پراسراریت پائی جاتی ہے۔ کابلا کا ایک شعبہ اعداد سے متعلق ہے اور اعداد کے باہمی روابط سے اور ان کی مختلف شکلوں سے حیرت انگیز عجائبات کا دعویٰ کابلا کے ماننے والے اکثر کرتے ہیں۔ تاہم میڈونا کا دورہ متنازعہ بن سکتا ہے کیونکہ ان کے اسرائیل کے دورے میں اس مقبرے پر بھی جانا ہے جو بیت اللحم میں اور جو اس زمین پر ہیں جواسرائیلیوں کے زیرِ قبضہ ہے مگر فلسطینیوں کی کہلاتی ہے۔ میڈونا کے گروپ کے ساتھ ہزاروں پولیس والے ہوں گے اور سکیورٹی کے پیشِ نظر اس دورے کی تفصیلات پر خاصی محنت کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ گلوکارہ میڈونا اسرائیل کے شمال میں بڑے بڑے نامور یہودیوں کی قبروں پر جائیں گی اور یروشلم میں مغربی دیوار کی زیارت بھی کریں گی۔ اجتماع میں شریک ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ ان کے گروپ کی تعلیمات توانائی کا باعث ہیں اور کابلسٹ کہتے ہیں کہ ان مقامات پر جانے سے آپ کو مثبت توانائی ملتی ہے۔ اگر میڈونا بیت اللحم میں واقع مزار پر گئیں تو فلسطینی اس کے خلاف احتجاج کریں گے جس کا اعلان وہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔ میڈونا اپنی ایک تقریر میں فلسطینی اور اسرائیلی بچوں کے اکٹھا ہونے کی بات بھی کریں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||