’ہٹلردلکش تھا، نرم گوشے رکھتا تھا- - ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی میں جمعرات سے ایک فلم کی نمائش شروع ہوئی ہے جس کا نام ’دی ڈاؤن فال‘ ہے اور جس میں ایڈولف ہٹلر کی زندگی کا ایک ایسا گوشہ دکھایا گیا ہے جس میں انسانوں کے لیے ہمدردی کی جھلک ہے۔ یہ فلم جس کی کہانی جرمنی میں ہٹلر کے اکثر مخالفوں کو ناگوار گزر رہی ہے، کیونکہ ہٹلر کی انسان ’دوستی‘ کے سین پہلی مرتبہ بتائے یا دکھائے گئے ہیں۔ یہ فلم ہٹلر کے آخری ایام کی کہانی ہے۔ اس فلم کے ایک منظر میں ایڈولف ہٹلر ایک بریفنگ کے دوران اپنے جرنیلوں کو برا بھلا کہتے ہوئے بزدل اور غدار قرار دیتا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ہٹلر پارکنسنز کے مرض میں مبتلا ہے اور اس کی یادداشت اور پہچاننے کی صلاحیت انحطاط پر ہے۔ غصے کی وجہ سے اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور وہ اپنے جرنیلوں سے کہتا ہے: ’ کیا تم فوجی اکیڈمیوں میں یہ پڑھتے رہے ہو کہ ہاتھوں میں چھری کانٹا کیسے پکڑتے ہیں؟‘ تاہم اس فلم سے پورے جرمنی میں تنازعہ نے جنم لے لیا ہے جس کی وجہ فلم میں دکھایا جانے والا ہٹلر کی زندگی کا وہ پہلو ہے جس کا تعلق انس سے ہے۔ اس فلم میں وہ اپنی سیکٹری سے بڑی شفقت اور محبت سے پیش آتا ہے اور اپنی محبوبہ سے سالگرہ کے موقع پر چاکلیٹ کا کیک لیتا ہے۔ فلم کے ایک منظر کے دوران دکھایا گیا ہے کہ ہٹلر کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ کہانی کے مصنف کا کہنا ہے: ’وہ (ہٹلر) آخر انسان ہے، یہ سچ ہے کہ وہ خوبصورت تھا اور اس کی زندگی میں کچھ نرم اور اچھی باتیں بھی تھیں۔ اور یہ بات سارے معاملے کو خطرناک بناتی ہے کیونکہ ہم سب لوگوں کے اندر ایک جانور چھپا ہوتا ہے یہ یہی فلم کا موضوع ہے۔‘ لیکن یہ پیغام جرمن معاشرے کے کچھ حصوں میں نہیں پہنچ سکا۔ ایک اخبار لکھتا ہے کہ ایک عفریت کو انسان بنا کر پیش کرنا درست ہے؟ سولہ اعشاریہ چار ملین ڈالر کی لاگت سے بننے والی یہ فلم کئی برسوں میں جرمنی کی مہنگی ترین فلم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||