پاپ گلوکاری یا قومی جدوجہد ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقِ وسطیٰ میں پاپ گانوں کے مقابلے میں ایک لیبیائی گلوکار ایمن الاطہر نے فلسطینی عمار حسن کو ہرا کر مقابلہ جیت لیا ہے۔ ’سپر سٹار کمپیٹیشن‘ نامی اس مقابلے کا اہتمام لبنان کے ایک ٹی وی سٹیشن فیوچر ٹیلی ویژن نے کیا تھا اور اس کی عکس بندی بیروت میں کی گئی۔ اس مقابلے کے لئے بتیس لاکھ ناظرین نے فون، ای میل اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے ووٹ ڈالے تھے۔ ایمن نے اس میں سینتالیس فیصد سے چون فیصد تک ووٹ حاصل کیے۔ نتائج کے اعلان کے بعد اتحاد و یک جہتی کے اظہار کے طور پر فلسطینی عمار لیبیا کا اور ایمن فلسطینی جھنڈا اٹھائے سٹیج پر آئے۔ اس مقابلے کو دیکھنے کے لئے فلسطینی عمار حسن کے گاؤں صلفیط میں جو مغربی پٹی میں واقع ہے، ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا۔ عمار کا چودہ ہفتے قبل شروع ہونے والے اس مقابلے کے فائنل تک پہنچنا کئی فلسطینیوں کے لئے ایک قومی اعزاز سے کم نہیں۔ ان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا فلسطینی خودمختاری کی علامت بن چکا ہے۔ تاہم کچھ شدت پسندوں نے ایک مسجد میں ان کی شرکت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ تاہم ان کے والد کہتے ہیں ’کچھ فلسطین کے لئے لڑتے ہیں، میرا بیٹا فلسطین کے لئے گاتا ہے۔‘
فلسطین میں یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ لیبیا نے اس مقابلے کے لئے مفت ٹیلی فون لائینیں مہیا کی تھیں تاکہ ایمن الاطہر کو زیادہ سے زیادہ ووٹ مل سکیں۔ اس کے جواب میں کمپیوٹر کے ماہر ایک فلسطینی لڑکے نے آسانی سے زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالنے کا ایک نیا طریقہ کار وضع کیا۔ احمد فلپان نامی اس لڑکے کا کہنا ہے ’اپنے ملک کے لئے جدوجہد کے ایک سے زیادہ طریقے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||