’مجھے اپنا اصل دکھانا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ان میں سے ایک دنیا کے طاقتور صدر کو سکینڈل کی زد میں لے آئی تو دوسری نے عوام کی نظروں میں ایک ہیرو کو مشکوک بنا دیا۔ ایڈنبرا ٹی وی فیسٹول میں اگرچہ شائقین مونیکا لیونسکی اور ربیکا لوس سے ان کے سکینڈلز کے بارے میں جاننے کے لیے آئے تھے لیکن دونوں خواتین نے زیادہ تر بات چیت چیک بک کی صحافت اور برطانوی میڈیا میں اس کے کردار پر کی اور ٹی وی انٹرویوز کے لیے رقم لینے کے اپنے فیصلوں کا دفاع کیا۔ بل کلنٹن کو سکینڈل کی زد میں لانے والی مونیکا لیونسکی اور برطانوی فٹ بال سٹار ڈیوڈ بیکہم کے ساتھ مبینہ تعلقات قائم کرنے والی ربیکا لوس کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ معاوضہ اس لیے لیا تاکہ وہ ٹی وی پر آکر صورتِ حال کو اس کے اصل تناظر میں واضح کرسکیں۔
چینل فور سے ایک ٹی وی انٹرویو کے لیے مبینہ طور پر چار لاکھ پاؤنڈ معاوضہ وصول کرنے والی مونیکا لیونسکی کا کہنا تھا کہ ’ یہ میرے بارے میں تھا تاکہ میں دنیا سے اپنی اصل شخصیت متعارف کروا سکوں۔‘ دوسری طرف ریبیکا لوس نے مبینہ طور پر سکائی ون ٹی وی چینل سے انٹرویو کے لیے ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ کا معاوضہ وصول کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ’میں نے اخباروں میں اتنا کچھ اپنے بارے میں پڑھا تھا جو میرے بارے میں نہیں تھا۔ میں آگے بڑھ کر ٹی وی پر آنا چاہتی تھی کہ لوگوں کو اپنا اصل دکھا سکوں۔‘ تاہم مونیکا لیونسکی کو یہ بات بالکل سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس موضوع پر مذاکرہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے اس رائے کے بعد کہ لوگوں کو چیک بک کی صحافت سے مدہوش کیا جا رہا ہے کہا کہ ’اسے تفریحی صحافت کیوں نہیں کہا جا سکتا؟‘
دونوں کا کہنا تھا کہ ان کے لیے معاوضہ اہم تھا۔ مس لیونسکی کے مطابق انہیں اپنے بل ادا کرنے تھے کیونکہ وہ ایک سال سے بیروزگار تھیں جبکہ مس لوس کا کہنا تھا کہ انہیں نوکری سے چھٹی کرا دی گئی تھی اور وہ ’گلیوں میں خوار ہو رہی تھیں‘۔ اسی شو میں پینل پر میکس کلفورڈ بھی موجود تھے جو مختلف اخبارات اور ٹی وی کے لیے مشہور شخصیات کے انٹرویو کرواتے ہیں اور ان کے بارے میں کہا گیا کہ ان سے ٹیبلائیڈز کی صحافت میں لوگ سب سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ میکس کلفورڈ نے اعتراف کیا کہ ’وہ ہر کہانی کے متن کو اپنی مرضی کا رخ دینے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے قبل میڈیا اس طرح کی کہانیوں سے بہت سے پیسے بناتا تھا۔ اب وہ لوگ بناتے ہیں جن کے انٹرویو کئے جاتے ہیں تو اس میں کیا برائی ہے۔‘ تاہم ایڈنبرا ٹی وی فیسٹول کی اچھی بات یہی تھی کہ یہاں پینل پر آنے کے لیے کسی کو معاوضہ نہیں ادا کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||