اداکار محمود انتقال کر گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فلموں کے مشہور مزاحیہ اداکار محمود جمعہ کے روز انتقال کر گئے۔ وہ جگر کے مرض میں مبتلا تھے۔ محمود کا انتقال امریکہ کے شہر پینسلونیا میں ہوا۔ ان کی عمر 72 سال تھی۔ محمود 1932 میں بمبئی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے 300 کے قریب فلموں میں کام کیا۔ محمود نے سن پچاس کی دہائی میں ’ناستک‘، ’جاگرتی‘ اور ’بدنام‘ جیسی فلموں میں کام کر کے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ ’فرار‘، ’بندش‘، ’بہو‘ اور ’انسپکٹر‘ تک وہ ایک تجرباتی دور سے گزر رہے تھے لیکن 1957 میں بننے والی فلم ’پیاسا‘ میں انہوں نے وجے کے چالاک، دغا باز اور طوطا چشم بھائی کا کردار ادا کر کے اپنے فن کا لوہا منوا لیا۔ 1959 میں ویسے تو ان کی چھ فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن ان کا پسندیدہ کردار سریش سنہا کے بھائی کا کردار تھا جو انہوں نے گورودت کی فلم ’ کاغذ کے پھول‘ میں ادا کیا۔ یہ فلم باکس آفس پہ ہٹ نہ ہو سکی لیکن اسی سال بننے والی فلم ’دھول کا پھول‘ کاروبار طور پر بہت کامیاب رہی اور ساتھ ہی محمود کی مارکیٹ ویلو بھی آنے والے کئی برسوں کے لیے مستحکم ہو گئی۔ جس کردار نے محمود کو زندہ جاوید کر دیا وہ 1968 کی فلم ’پڑوسن‘ میں میوزک ماسٹر کا کردار تھا۔ محمود کی دوسری مشہور فلموں میں ’کنوارہ باپ‘، ’پتی پتنی اور میں‘ اور ’دل دے کے دیکھو‘ ہیں۔ انہوں نے کئی فلمیں ڈائریکٹ بھی کیں اور معض فلموں میں گانے بھی گائے۔ محمود کے والد ممتاز علی خاموش فلموں میں کام کرتے تھے، ان کی بہن مینو ممتاز ایک ماہر رقاصہ اور اداکارہ تھیں، ان کی بیوی مدھو، مینا کماری کی بہن ہیں اور آج کے معروف سنگر لکی علی ان کے بیٹے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||