جینیفر ڈونیلی کیلئے کارنیگی انعام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی مصنفہ جینیفر ڈونیلی کو بچوں کے ادب کے میدان میں برطانیہ کے سب سے بڑے امتیازی اعزاز کارنیگی انعام کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔ یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ناشرین دس سال تک جینیفر ڈونیلی کی تصانیف کو شائع کرنے سے انکار کرتے رہے۔ ایک عشرے کی جدوجہد کے بعد انتالیس سال کی عمر میں ڈونیلی کی پہلی تصنیف پچھلے سال شائع ہوئی۔ جینیفر ڈونیلی نے ’کارنیگی میڈل‘ نوعمر بچوں کے لئے اپنی تصنیف ’اے گیدرنگ لائٹ‘ پر جیتا ہے۔ انہوں نے مقبول مصنف مارک ہیڈن کو شکست دی۔ ہیڈین اپنی تصنیف ’دی کیوریث انثیڈینٹ آف دی ڈاگ ان دی نائٹ ٹائم‘ کیلئے وہائیٹ بریڈ انعام حاصل کرچکے ہیں۔ جینیفر ڈونیلی کی کتاب ’اے گیدرنگ لائٹ‘ ان کی تیسری تصنیف لیکن نوعمر بچوں کے لئے پہلی تصنیف ہے۔ ان کی یہ کتاب حقیقی زندگی کے ایک واقع پر مبنی ہے جس میں بیسویں صدی کی شروع میں امریکہ میں ایک جوان عورت کی لاش کو ایک جھیل سے نکالا گیا تھا۔
ڈونیلی کے خاندان کا تعلق کومیتھ اور ڈبلن کے علاقے سے ہے۔ جینیفر ڈونیلی نے لندن کے ادارے بیربیک کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ان کی پہلی کتاب ’ٹی روز‘ کارنیگی اعزاز کو قائم ہوئے اڑسٹھ برس ہوگئے ہیں۔ یہ بچوں اور نوجوانوں کے لئے سب سے نمایاں تصنیف لکھنے والے کو دیا جاتا ہے۔ جینیفر ڈونیلی کی مطابق ان کے لئے یہ اعزاز بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ان لوگوں کی طرف سے ہے جو ہر روز اچھائی کی جنگ لڑتے ہیں۔ شرلے ہیوز کو ان کی کتاب ’ایلاز بگ چانس‘ پر ’ کیٹ گریناوے میڈل‘ سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں سنڈریلا کی کہانی کو دوبارہ بیان کیا ہے۔ برطانیہ کے شہر لیور پول میں پیدا ہونے والی مصنفہ شرلے ہیوز نے انیس سو ستتر میں بھی اپنی کتاب ’ڈوگر‘ پر یہ میڈل جیتا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||