ویڈیو گیمز: فلموں کامتبادل؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈرائیونگ اور شوٹنگ ہمیشہ سے ویڈیو گیمز کا مرکزی خیال رہی ہیں۔ ریفلیکشنز انٹرایکٹیو سوفٹ وئیر کے بانی اور ’ڈرائیور گیمز‘ کے خالق مارٹن ایڈمنڈسن کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ کہ ویڈیو گیمز ہمیں کلاسیکل فلموں کے تیز رفتار کاروں کے تعاقب والے لازوال لمحات کی یاد دلاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران ہمیں لائسنس کے چھن جانے کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔ ویڈیو گیمز کھیلنے والے لوگ وہی ہیں جو ڈی وی ڈی فلمیں خریدتے ہیں۔ یہ لوگ ویڈیو گیمز سے ڈی وی ڈی فلموں والے معیار کی توقع کرتے ہیں۔ ماضی میں ویڈیو گیمز میں کہانی کا معیار اتنا اچھا نہیں ہوا کرتا تھا۔ لیکن پیشہ ور لکھنے والوں، موسیقاروں، اداکاروں، ہدایت کاروں اور ایڈیٹروں کے شمولیت کے سبب اب ویڈیو گیمز کا معیار کافی اچھا ہو گیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ویڈیو گیمز کہانی سنانے کے عمل میں وقفہ مہیا کرتی ہیں۔ ویڈیو گیمز کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انہیں جب دل چاہے روک کر بعد میں پھر سے شروع کیا جا سکتا ہے جبکہ فلموں میں ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ ویڈیو گیمز میں گیم کھیلنے والے کے ہاتھ میں سب کچھ ہوتا ہے۔ فلم بنانے والی کمپنیاں پہلے سے بڑھ کر ویڈیوگیمز میں دلچسپی دکھا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ویڈیو گیمز کو فلم اور موسیقی کے ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں رڈلے سکارٹ ایسوسیئٹز بھی شامل ہے۔ بظاہر تو یہ خوش آئند ہے لیکن اس سے غلبے کے اس کلچر کی بو بھی آتی ہے جس میں ایک نئے متنوع برانڈ کے نام پر معیار کو قربان کر دیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||