BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 July, 2004, 15:11 GMT 20:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موریکو، کراچی اور کتھک

کتھک
کتھک ڈ انسر فصیح الرحمن موریکو اور دیگر دو خواتین کے ہمراہ
کراچی میں کتھک ڈانس کو دیکھنے والے تو مل جائیں گے لیکن اس فن کے اصل قدردان اور اس کو سیکھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

جاپان سے تعلق رکھنے والی موریکو ہٹاچی کتھک ڈانس کے عشق میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے 1975 میں سیالکوٹ کے ایک سوشیالوجسٹ سے شادی کی اور پھر پاکستان ہی میں آبسیں۔

موریکو شاہ انیس سو پچھتر میں شاہ سے امریکہ میں بی بی اے کی تعلیم کے دوران ملیں تھیں۔ جاپانی نژاد موریکو شاہ کے لیے پاکستانی ماحول اور وہ بھی پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں بسنے کا فیصلہ اور اس کو نبھانا اتنا آسان نہ تھا اور شاید اسی لیے انہیں پاکستان اور جاپان کے درمیان سماجی اور ثقافتی فاصلہ طے کرنے میں ایک طویل عرصہ لگا۔

موریکو کے دو بچے ہیں ایک بیٹی اور ایک بیٹا ۔ اور انہی دونوں کی کتھک ڈانس میں دلچسپی سے موریکو کو بزات خود رقص کی اس صنف میں دلچسپی پیدا ہوئی۔

موریکو کے مطابق جب انیس سو چھیانوے میں وہ اپنے بچوں کو کتھک کی تربیتی کلاسز کے لیے کراچی کی انڈس ویلی اسکول آف آرٹس جایا کرتی تھیں۔ وہاں ان کی ملاقات پاکستان کے مشہور کتھک ڈ ّانسر فصیح الرحمن سے ہوئی جو ہر پندرہ روز کے بعد کتھک میں دلچسپی رکھنے والے کراچی کے چند طلبہ کو کتھک سکھانے لاہور سے کراچی آتے تھے۔

کتھک
کراچی میں کتھک سیکھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے

میں نے موریکو سے پوچھا کہ انہوں نے پاکستان میں اتنا عرصہ گزارنے کے بعد کتھک ڈانس کی ہی پروری کا فیصلہ کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا ’کتھک کے بعض پیرائے یا اسٹیپس ایسے ہیں جو بدھ مذہب کے ماننے والوں کی عبادات یا یوگا کے مختلف آسنوں سے مماثلت رکھتے ہیں اور ان کی ادائیگی میں بھی وہی محویت اور لگن درکار ہوتی ہے جو جسم و روح اور ذہن کو سکون فراہم کرتی ہے۔ ایک طرح کی پاکیزگی ہے اس فن کی ادائیگی میں‘۔

موریکو کا کہنا تھا کہ کتھک میں ہاتھوں کی موومنٹ کا انداز، جسے ہستک کہا جاتا ہے، جاپانی شہر کیوٹو میں بنے بدھا کے مجسموں کے ہاتھوں کی موومنٹ سے ملتا جلتا ہے۔ کتھک کے دوران چہرے کے مختلف تاثرات بھی مہاتما بدھ کے مختلف مجسموں میں ان کے چہرے کے تاثرات سے ملتے جلتے ہیں۔

موریکو کے مطابق انہیں ابتدائی برسوں میں تو پاکستانی ثقافت اور جاپانی طرز زندگی میں تو کوئی قدر مشترک نہیں لگی لیکن کتھک نے انہیں اس معاشرے کی ثقافت سے قرب فراہم کرنے میں مدد دی۔

انیس سو اٹھانوے میں انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھیوں اور بعض استادوں کے ملک سے چلے جانے کے بعد اس تربیت کو جاری رکھنے کا بیڑہ اٹھایا اور فصیح الرحمن کے تعاون سے اس کام کو آگے بڑھایا۔ لیکن موریکو کا کہنا یہی ہے کہ اس رقص کو سیکھنے میں جو حوصلہ اور محنت درکار ہے اس کا مزاج کراچی والے نہیں رکھتے۔

بقول موریکو پاکستان میں رقص کا نام لینا آج بھی خاصا معیوب سمجھا جاتا ہے اسی لیے اگر ذاتی بجٹ سے ہٹ کر اسپانسرز سے رابطہ کیا جائے تو وہ کئی بار سوچتے ہیں۔

اسی لیے یہ فن کراچی جیسے شہر میں پنپنے کے بجائے دم توڑتا نظر اتا ہے۔ اس سال موریکو نے فصیح الرحمن کے ساتھ جاپان میں ایک شو کا اہتمام کیا جو بھرپور پزیرائی کا حامل بنا۔ موریکو نے کہا کہ اس شو دیکھنے والے آرٹ کے شیدائیوں نے کتھک کو جاپانی پرفارمنگ آرٹ کے مختلف پیرائیوں سے قریب تر پایا۔

موریکو کتھک میں اپنی دلچسپی اور اس فن کے قدر دانوں کو سال میں کم ازکم دو بار تو ضرور ہی ایک چھت کے نیچے جمع کر لیتی ہیں۔ لیکن اپنی کوشش اور لگن کے باوجود وہ مستقبل میں کتھک کو پاکستان میں پنپتا ہوا نہیں دیکھتیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد