موسیقی کے افق پر نئی جوڑی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عدنان سمیع کے دو فرسٹ کزنز (بہن بھائی) نے اپنے گلوکار ہونے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے ایک شو میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ اٹھارہ برس کے حسن حیدر نے حال ہی میں اے لیول کا امتحان پاس کیا ہے انہوں نے اس شو میں عدنان سمیع اور کشور کمار کے گائے ہوئےگیت زیادہ گائے۔ شو کے آغاز ہی میں جب حسن نے عدنان سمیع کاگيت’بھیگی بھیگی رات میں پھر تم آؤ نا‘ گایا تو سننے والے عدنان سمیع کے ساتھ اسکی آواز کی اس قدر مشابہت پر دنگ رہ گئے۔ حسن کہتے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے عدنان سے متاثر ہیں اورجس طرح سے انہوں نے اس فن میں نام کمایا ہے وہ ان کے لیے ایک مشعل راہ ہے ۔ ایک اور گلو کار کہ جس کے گیت حسن نے خوب لہک لہک کر گائے وہ کشور کمار ہیں۔ ’میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تُو‘، ’او میرے دل کے چین ،چین آئے میرے دل کو دعا کیجیے‘، ’او کھا کے پان بنارس والا کھل جائے بند عقل کا تالا‘ اور کشور کمار کے ایسے ہی دیگر سدا بہار ہٹس گا کر حسن نے محفل کو خوب گرمایا۔ ان دو نوجوان بہن بھائیوں کے گیت سننے کے لیے محفل میں غزل کی گائیکی میں کمال رکھنے والی گلوکارہ فریدہ خانم بھی موجود تھیں انہوں نے ان کی گلوکاری کو سراہا۔ فریدہ خانم نے کہا کہ یہ دونوں اس میدان میں ایک نیا اضافہ ثابت ہوں گےاور جس طرح انہوں نے پہلے سے ریکارڈ شدہ گانے گانے کی بجائے لائیو پرفارم کیا اور نہایت اعتماد سے گایا اگر اسی شوق سے گاتے رہے اور باقائدہ تربیت حاصل کی تو یہ بہت ترقی کریں گے۔ زارا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے سکول میں موسیقی کی تعلیم حاصل کی لیکن کسی بڑے استاد سے نہیں سیکھا۔ شو میں موجود کلاسیکل گلوکار استاد حامد علی خان نے کہا کہ دراصل موسیقی ان کے خون میں شامل ہے اور عدنان سمیع کی طرح ان میں بھی قدرتی طور پر موسیقی کی حس ہے تاہم استاد حامد علی خان نے کہا کہ اگر انہوں نے باقائدہ تربیت حاصل کی تب ہی یہ بہت اچھے گلوکار بن پائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||