’گنیز بک آف ورلڈ‘ کے بانی کی وفات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا کی سب سے شہرت یافتہ کتاب ’گنیز بک آف ورلڈ‘ کے بانی نورس مک رائیٹر نے اٹھتر سال کی عمر میں وفات پائی۔ انھوں نے اس نامور کتاب کی بنیاد اپنے جڑواں بھائی روس کے ہمراہ رکھی۔ وہ اس کتاب کے پہلے مدیر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ نورس مک رائیٹر کو اس بات کا بھی شرف حاصل ہے کہ انھوں نے تیئس سال کی عمر میں ’بی بی ون ریکارڈ بریکر‘ جیسےشہرت یافتہ پروگرام کو پیش کیا۔ نورس مک رائیٹر کی پیدائش بارہ اگست انیسو پچیس کو لندن میں ہوئی۔ ان کے والد صحافی تھے جنھوں مختلف اخباروں میں مدیر کی حیثیت سے کام کیا۔ نورس اور ان کے جڑواں بھائی روس نے ابتدائی تعلیم مالربورو سے حاصل کی اور اس کے بعد وہ آکسفورڈ ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے رائل نیوی میں بھی اپنے فرائض دیئے۔ وہ ایک معروف کھلاڑی تھے جنہوں نے آزاد صحافی کی حیثیت سے کئی اخباروں میں کام کیا۔ جن میں بی بی قابلِ ذکر ہے۔ انھوں نے انیسو ساٹھ سے انیسو بہاتر میں منعقد ہوئے اولمپکس گیم میں ایک کمنٹریٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ انیسو پچاس کے عشرے میں ان دو بھائیوں نے ایک کمپنی قائم کی جو کہ مختلف اعدادو شمار کا ریکارڈ رکھنے اور مختلف اخبارات کی سپلائی کے کام کی حیثیت سے جانی جاتی تھی۔ وہ ہمیشہ مختلف ریکارڈز سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں انھوں نے انیسو پچپن میں عالمی شہرت یافتہ کتاب ’گنیز بک‘ لکھنے کا کام سر انجام دیا جو انھوں نے سولہ ہفتوں میں مکمل کر لیا۔ تقریباً ایک سال بعد اس کتاب کا نام بدل کر ’گنیز بک آف ورلڈ‘ رکھا گیا اور اسکی سو ملین سے زائد جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ یہ وہی مفید کتاب ہے جس نے عام انسان کو یہ معلومات فراہم کی کہ دنیا کا سب سے بڑا اور دنیا کا سب سے چھوٹا انسان کون ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||