طعنے نے گلوکارہ بنا دیا: شاہدہ مِنی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاہدہ مِنی کا کہنا ہے کہ ایک گلوکارہ کے طعنے نے انہیں دوبارہ موسیقی کے میدان میں قدم رکھنے پر مجبور کر دیا۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے اپنی فنی زندگی کی ابتداء پی ٹی وی پر ایک گلوکارہ کی حیثیت سے کی لیکن بعد میں ان کی زیادہ توجہ فلم، ماڈلنگ اور سٹیج کی جانب مبذول رہی اور وہ موسیقی کی دنیا سے دور ہوتی گئیں۔ ’آٹھ سال کی عمر میں پی ٹی وی سے گانا شروع کرنے سے پہلے میں نے استاد بڑے غلام علی کے بھائی بابا مانے خان سے موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی لیکن بعد میں شو بز کے دیگر شعبوں میں میری مصروفیات نے مجھے موسیقی سے دور کر دیا۔‘ شاہدہ مِنی کے مطابق تقریباً دو سال پہلے پیش آنے والے ایک واقعے نے انہیں دوبارہ گلوکارہ بننے پر مجبور کر دیا۔
’میں نے گانوں پر پرفارمنس کا سلسلہ شروع کیا تو میں دیگر گلوکاروں کے گانوں پر پرفارم کیا کرتی تھی۔ میرےی پرفارمنس کے بعد یہ ایک سٹائل بن گیا اور کئی دیگر اداکارائیں بھی اس میدان میں آئیں اور گانے گلوکاراؤں کی بجائے اس پر پرفارم کرنے والی اداکاراؤں کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ پھر ایک معروف گلوکارہ نے دھمکی دی کہ اگر کسی نے ان کے گائے ہوئے گانے پر پرفارم کیا تو وہ اس پر مقدمہ دائر کر دیں گی۔ ’مجھ پر اس بات کا بہت اثر ہوا اور میں نے پندرہ دن کے اندر اندر گانے تیار کرائے اور انہیں اپنی آواز میں ریکارڈ کرایا اور ایک بار پھر موسیقی کے میدان میں واپس آ گئی۔‘ شاہدہ مِنی کو گلوکاری شروع کرنے کے فوراً بعد ہی ایوارڈ ملنا شروع ہو گئے ان میں سب سے اہم میلوڈی کوئین کا ایوارڈ ہے۔ اس ایوارڈ کے لئے پاکستان کی گیارہ گلوکاراؤں کے درمیان مقابلہ کرایا گیا تاکہ اس بات کا فیصلہ کیا جا سکے کہ آواز اور ادائیگی کے لحاظ سے ملکہء ترنم نورجہان کے قریب ترین کون ہے۔
فریدہ خانم، اقبال بانو اور رئیس خان پر مشتمل جیوری نے شاہدہ مِنی کو میلوڈی کوئین کے اعزاز کا مستحق قرار دیا۔ شاہدہ مِنی کی گائیکی کی خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کی ماضی کی گلوکاراؤں کی طرح صرف گانا گاتی ہی نہیں بلکہ اس پر خوبصورت رقص سے مزین پرفارمنس بھی کرتی ہیں۔ ’میرے خیال میں جہاں اچھا گانا ضروری ہے وہاں اس پر اچھا پرفارم بھی کرنا چاہیے تاکہ لوگ جو گانا سن رہے ہیں وہ سنتے ہی نہ رہیں بلکہ اس دیکھنا بھی پسند کریں۔‘ شاہدہ مِنی کے مطابق اپنے گانوں پر پرفارم کرنا ان کے لئے کوئی مشکل نہیں تھا کیونکہ گلوکاری سے پہلے وہ اداکاری، تھیٹر اور سٹیج پر کافی تجربہ حاصل کر چکی تھیں۔ ’میرے پرفارمنس میں کوئی بناوٹ نہیں ہوتی۔ جب ردھم اچھی ہوتی ہے تو میرے قدم خود بخود بیٹ دینا شروع کر دیتے ہیں۔ جسم میں ایک ردھم آ جاتا ہے اور میں گانے کو محسوس کرنے لگتی ہوں اور جب میں محسوس کرتی ہوں تو گانے میں پیش کئے گئے احساس و جذبات کو اظہار کا ایک اور راستہ میسر آتا ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||