BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 March, 2004, 02:47 GMT 07:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کایا پلٹ کیسے ہوئی

-
اداکار کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دور کے سیاسی، سماجی، اور اقتصادی حالات کو سمجھے
بھارت کے معروف اداکار منوج باجپائی کہتے ہیں کہ ہندی ریاستوں میں قابلیت کی کمی نہیں ہے ۔کمی ہے تو ایسے وسائل اور لوگوں کی جو صحیح وقت پر انہیں راہ دکھائیں اور مواقع دیں۔ لوگوں میں موجود ہنر کو ختم ہونے سے بچانے کے لئے ہمیں جلد از جلد کچھ کرنا چاہئے۔

اپنی جدو جہد کی داستان وہ یوں بیان کرتے ہیں۔

میری دلی خواہش تھی کہ مجھے نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں داخلہ ملے لیکن اپنی تین کوششوں کے بعد بھی ناکام رہا ۔ ان ناکامیوں نے مجھے مایوس تو کیا لیکن ساتھ ہی آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیا۔

میں نے اپنی مشق جاری رکھی اس تمام جدوجہد کا فائدہ ہی ہوا۔ میں مزید منجھ گیا اور میری شخصیت کا کھردرا پن بھی ختم ہوا۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں نے د وستوں سے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں ناٹک کرنا چاہتا ہوں تو کسی نے شمس الاسلام کا نام بتایا۔ اسی شخص نے یہ بھی بتایا کہ وہ کمیونسٹ خیالات کے ہیں اور اسٹریٹ تھیٹر کرتے ہیں۔

شمس الاسلام سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بغیر کسی امتحان یا آڈیشن کے مجھے اپنے گروپ میں شامل کر لیا۔ میں ان کے دفتر آنے جانے لگا اور ان کی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگا۔

میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ شمس الاسلام میرے پہلے استاد تھے۔ انہوں نے سمجھایا کہ کسی بھی اداکار کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دور کے سیاسی، سماجی، اور اقتصادی حالات کو سمجھے جس کے بعد ہی وہ معاشرے کو ٹھیک طرح سمجھ سکے گا۔ اس کے بعد ہی کرداروں کو سمجھ کر خود کو ان کرداروں میں اتارا جا سکتا ہے۔

اس طرح میری شروعات ایک ایسے طالبِ علم کے طور پر ہوئی جو اداکاری کی باریکیوں کے ساتھ سماج کو بھی سمجھ سکے ۔ میرے لئے یہ بہت بڑا سبق تھا۔ میں بہار کے ایک روایتی برہمن خاندان سے ہوں ۔ پرورش کے دوران ذات پات زمینداری اوراعلی اقدارکی تعلیم دی گئی تھی ۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ رام کے زمانے میں بھی دھوبی ہوتے تھے اور آج بھی کوئی نہ کوئی دھوبی ہونا چاہئے ۔ پسماندہ اور اعلٰی ذاتوں کا ہونا غیر قدرتی نہیں مانا جاتا تھا۔

شمس الاسلام کی صحبت نے میری سوچ کو بدلا میں اپنے دور کے سماجی بندھنوں سے باہر نکلا انہوں نےاندرون اور بیرون ملک کے جدید ادب سے میرا تعارف کرایا۔ مجھے ہر طرح کی کتابیں پڑھنے کو ملیں ۔ میں نے روسی ، چینی اور دیگر زبانوں کے ادب کو پڑھا اور میرا نظریہ بدلتا چلا گیا۔

میں نے یہ بھی محسوص کیا کہ میری ہندی بھی اچھی نہیں ہے۔ بات کرنے کا لہجہ، لفظوں کا انتخاب اور گفتگو میں اپنے علاقے کی بھاری چھاپ تھی اور اس طرح میں نے ہندی سیکھنی شروع کی۔

مجھے انگریزی بلکل نہیں آتی تھی اور دلی میں انگریزی بولنے ، پڑھنے اور لکھنے میں دشواری ہوتی تھی اور یہ احساس ہو گیا تھا کہ اگر بڑے شہر میں آگے بڑھنا ہے تو انگریزی سے نہیں بچا جا سکتا۔ انگریزی تو سیکھنی ہی ہوگی۔

دلی میں ابتدائی دن شمس الاسلام کے ساتھ اسٹریٹ تھیٹر کرنے کے ساتھ ساتھ ہندو کالج اور رامجس کالج کے ناٹک کرتے گزرے۔

لوگوں میں موجود ہنر کو ختم ہونے سے بچانے کے لئے انہیں مواقع دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ہندستان میں قابلیت کی کمی نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد