غرب اردن کی متنازعہ فصیل اور کیٹ واک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کی ایک فیشن ڈیزائنر کمپنی نے موسم گرما کے کپڑوں کے فیشن شو کے لئے غرب اردن میں کی متنازعہ فصیل کی جگہ کا انتخاب کیا۔ ماڈلز نے ان کپڑوں کی نمائش کے لئے اس فصیل کے ساتھ کیٹ واک کی۔ اس کمپنی ’کم الفات‘ کی مالکن سبل گولڈ فنگر کا کہنا ہے کہ اس شو کا مقصد یہ تھا کہ اس فصیل کی اہمیت نہ سمجھنے والے اسرائیلی عوام میں اس کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے۔ تاہم مقامی فلسطینی اس فیشن شو سے مشتعل ہوگئے۔ ایک خاتون کا کہنا تھا ’شرم کرو، یہ فیشن شو کرنے کی جگہ نہیں ہے‘۔ اس فیشن شو میں فرانس، روس، پولینڈ اور اسرائیل کی ماڈلز شریک تھیں جنہوں نے گرمیوں کے رنگ برنگے کپڑے پہن کر کیٹ واک کی۔ یہ فصیل آٹھ میٹر اونچی ہے اور یہ سیمنٹ اور سلوں سے بنائی گئی ہے۔ اور جس جگہ فیشن شو کیا گیا وہ مقام یروشلم کو غرب اردن سے جدا کرتا ہے۔ سبل گولڈ فنگر کا کہنا ہے کہ وہ اس شو میں فلسطینی ماڈلز کی شمولیت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ فلسطینی اور اسرائیلی خواتین ایک ساتھ مل کر کام کرسکتی ہیں۔ فلسطینی خواتین اس اقدام پر برہم ہیں۔ فصیل کے دوسری جانب ایک خاتون عائشہ کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل ہمیں خوفزدہ رکھتا ہے۔ ہمیں کپڑوں کی نمائش میں د لچسپیی نہیں ہے ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ فصیل گرادی جائے گی۔ یہاں یہ فیشن شو اور دوسری جانب اسرائیل ہماری معیشت تباہ کررہا ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||