BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 February, 2004, 03:17 GMT 08:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فطری اداکاری کی روایت اور ہماری نسل

منوج واجپائی
-
حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’مقبول ‘ میں عرفان خان کی بہت تعریف ہو رہی ہے اور اس سے پہلے وجے راج کی فلم ’رگھورومیو‘ کو حال ہی میں ممبئی کےایک فلم فیسٹیول میں بہترین فلم کا ایوارڈ بھی ملاہے۔

اسی طرح ’میں مادھوری بننا چاہتی ہوں‘ میں راج پال نے مرکزی کردار میں خاصی ستائش حاصل کی۔ اپنے ارد گرد دوسرے ساتھیوں اور فنکاروں کو اچھی فلمیں ملنے اور انکی ستائش ہوتے دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے۔

آج ہندی فلموں میں ہماری طرح کے فنکاروں کو پوری طرح قبول کر لیا گیاتو کیا یہ صرف ہماری نسل کے فنکاروں کی جدوجہد اور کاوشوں کا نتیجہ ہے؟ میرے خیال سے ایسا نہیں ہے ۔ یہ موتی لال کے دور سے شروع ہونے والی سلجھی ہوئی اورفطری اداکاری کی روایت کا نتیجہ ہے ۔جسے بلراج ساہنی ، نصیرالدین شاہ ، اوم پوری اور رگھوویر یادو جیسے کلاکاروں نے مضبوط کیا۔

مجھے ابھی تک یاد ہے میرے بابوجی مجھے جاگتے رہو فلم دکھانے لے گئے تھے۔ وہ میری ضد پوری کر رہے تھے کیونکہ مجھے سنیما کے پردے پر کچھ بھی چلتے پھرتے دیکھنے کا نشہ ہو گیا تھا۔ دل چاہتا تھا کہ پردے پر چلنے والا جاود کبھی ختم نہ ہو ۔لیکن یہ جادو پہلی بار اس وقت ٹوٹا جب میں نے فلم جاگتے رہو دیکھی اس فلم میں ایک ایسا موقع آتا ہے جب فلم کا ہیرو راج کپور پیاسا ہے اور پانی کی تلاس میں در در بھٹکتا ہے ۔

اس دوران اسے ایک کردار ملتا ہے وہ اپنے کرتے کی جیب سے چھوٹی سی بوتل نکالتا ہے اور اس میں سے شراب پیتا ہوا گانا گاتا ہے یہ کردار موتی لال تھے ۔ گھر آکر بابو جی نے موتی لال کی اداکاری کی تعریف میں جو الفاظ کہے ان میں ایک لفظ ’ فطری ‘ ہمیشہ کے لئے یاد رہ گیا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو امیتابھ بچن کےکرشمہ سے متاثر ہوا انکا ایک الگ اور انوکھا انداز تھا۔خواہ وہ مزاحیہ کردار نبھا رہے ہوں یارومانوی سین ہو انکی اداکاری میں ایک عجیب سی کشش تھی اور میرے دل میں اداکار بننے کا شوق پنپنے لگا لیکن کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا تبھی میں نے کلکتہ سے نکلنے والے ایک اخبار میں نصیر ایدین شاہ کا انٹرویو پڑھا۔

اس انٹرویو میں انہوں نے نیشنل سکول آف ڈرامہ کا ذکر کیا مجھے لگا کہ اگر اداکار بننا ہے تو نسیر الدین شاہ کی طرح نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں جانا ہوگا۔ میں دہلی پہنچا اسکول میں داخلہ تو نہیں ملا لیکن دہلی نے ہندی فلموں کی دنیا سے واقف کرایا جس سے میں محروم تھا۔

وہاں میں منجھے ہوئے اداکاروں کی فلموں کو بار بار دیکھ کر آتا اور انکے کرداروں اور اداکاری کی باریکیوں پر غور کرتا ۔ انہیں دنوں میری ملاقات رگھوویر یادو سے ہوئی۔ ان میں وہ سب کچھ تھا جو ایک اداکار میں ہونا چاہئے بعد میں انکے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا ان سے میں نے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کی۔

ہم جیسے اداکاروں کو آج نہ صرف انڈ سٹری بلکہ فلم بینوں نے بھی قبول کر لیا ہے اور اب یہ رواج بن گیا ہے کہ تمام اداکار پہلے کہانی اور کردار کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پوری اسکرپٹ مانگتے ہیں اور یہ تبدیلی بہت اہم ہے۔

آج ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم ان عظیم اداکاروں کی عظمت کو سلام کریں جنکی قائم کردہ روایتوں پر چل کر ہم آج دولت ، عزت اور شہرت حاصل کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد