ممبئی: دو فلم میلے، آمنے سامنے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال ممبئی عالمی فلم میلہ یعنی مافف بھارت میں سنسر کی پابندیوں کی وجہ فلمسازوں کے دو دھٹوں میں بٹ گیا ہے اور بعض معروف فلمسازوں نے ’متبادل عالمی فلم میلہ‘ کے نام سے علیحدہ میلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ممبئی سے جے شری وجوریا کی رپورٹ کے مطابق سسنسر شپ کے تنازعے کا آغاز شروع ہی سے اس وقت ہو گیا تھا جب یہ شرط رکھی گئی کہ میلے میں دکھائی جانے والی تمام فلموں کو سنسر سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہو گا۔ لیکن بعد میں اس پابندی کے خلاف دنیا بھر کے فلم سازوں کی طرف سے اٹھائی جانے والی آواز کے فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ تاہم گزشتہ ماہ ایک بار پھر سنسر شپ کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب میلے کی جیوری کے ایک رکن مصنف اور اداکار گریش کرنارڈ نے میلے میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ ان کے بعد کئی اور فلم سازوں نے بھی اپنی فلمیں واپس لے لیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میلے میں سیاسی وجوہ کی بنا پر حکومت اور سماج کے مختلف شعبوں کے خلاف آواز اٹھانے والی فلموں کو یہ کہہ کر دکھانے سے روکا جا رہا ہے کہ وہ نمائش کے قابل نہیں ہیں۔ اب اس اعتراض کی زد میں آنے والی فلموں کا ایک الگ میلہ ’متبادل‘ کے نام سے کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں فلم ساز راکیش شرما کا کہنا ہے : ہمیس ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ جو ہماری ایک الگ جگہ تھی، جس میں دستاویزی فلمیں بنانے والے فلم ساز ملتے، اپنی اپنی فلمیں دکھاتے تھے اور ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے تھے اور ان کے کام کو دیکھنے والے الگ فلم بین بھی ہیں تو انہیں اس بار اس کا موقع نہیں مل سکے گا۔ اس لیے ہم نے اس کے ایک الگ میلے کا انتظام کیا اور اس میں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ فلم بینوں کو وہ فلمیں دیکھنے کا موقعہ بھی ملے جو حکومتی دائرے سے باہر ہیں۔ اور یہ فلم بین بھی دیکھ سکیں کہ وہ کیا ہے اور کیسا ہے اور وہ فیصلہ کریں کہ یہ فلمیں اچھی ہیں یا بری ہیں۔
راکیش شرما کی فلم ’فاینل سولوشن‘ متبادل میں دکھائی جانے والی فلموں میں شامل ہے اور یہ فلم انہوں نے گجرات میں ہونے والے مذہبی فساد کے بارے میں بنائی ہے۔ متبادل، آج بدھ سے ٹھیک اس عمارت میں شروع ہو گا جس کے مقابل مافف کی فلمیں دکھائی جا رہی ہیں۔ دونوں میلے نو تاریخ تک جاری رہیں گے۔ تنازع کے باوجود دونوں حصوں میں کافی دلچسپ فلموں کی نمائش ہو گی۔ مافف میں نکولس فلبرٹ کی ’ٹو بی اینڈ ٹو ہیو‘۔ یاسمین کبیر کی ’اےسرٹین لبریشن‘ اور بھارت کی ’دی ڈے مائی گاڈ ڈائیڈ‘ اور ’گراس روٹ ویمنز‘ جو آندھرا پردیش کی آٹھ ان پڑھ عورتوں کی کہانیوں پر مبنی ہے۔ اور یہ فلمیں ان عورتوں نے خود ہی بنائی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اور فلمیں جو قومی اور عالمی سطح پر اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||