BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انگوٹھی کا جادو

سلور رِنگ
انگوٹھی جنسی احتراز کا عہد ہے

میں ایک ایسے مقام پر کھڑا ہوں جو مجھے لندن کے گیٹ وِک ائرپورٹ کے کار پارک کی یاد دلاتا ہے جیسے شٹل بسیں کہیں دور کھڑی ہوں اور ٹرمینل کی عمارت میرے پیچھے ہو۔

لیکن یہاں ایندھن کی مہک ہے نہ انجن کا شور اور نہ ہی کسی رن وے کا نام و نشان۔ دراصل کسی ائرپورٹ کے ٹرمینل کا گماں دینے والی یہ عمارت جنوبی کیرولائنا میں کولمبیا کا ایک بیپٹسٹ چرچ ہے۔

شام کے ڈھلتے ہی اس کار پارک میں زندگی کی لہر دوڑنے لگتی ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے قہقہے سنائی دیتے ہیں۔ بہت سے نوجوان اپنے پسندیدہ ستاروں کی ٹی شرٹیں پہنے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے گرجا گھر کے باہر میزوں کی قطاروں کے گرد نوجوان اپنی تفصیلات درج کراتے نظر آتے ہیں جن میں ان کی انگوٹھی کا ناپ بھی شامل ہے۔

انگوٹھی کا ذکر اس لئے اہم ہے کہ آئندہ تین گھنٹوں میں بیشتر نوجوان بارہ ڈالر کے عوض ایک بائبل اور چاندی کی ایک انگوٹھی حاصل کر رہے ہوں گے۔

یہ انگوٹھی اس عہد کی نشانی ہے کہ وہ شادی سے پہلے جنسی تعلق سے مکمل احتراز برتیں گے۔ اس وقت امریکہ میں جنسی احتراز کی مہم پنپ رہی ہے اور اس مہم کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ جنسی تعلقات سے منتقل ہونے والی بیماریوں سے چھ کروڑ پچاس لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ’وبا‘ انیس سو ساٹھ کے عشرے میں شروع ہونے والے جنسی انقلاب کے بعد پھیلی ہے۔

جنسی احتراز کی حامی لابی کا کہنا ہے کہ امریکہ اب اپنا بویا کاٹ رہا ہے۔

’سلور رِنگ تھنگ‘ کو کولمبیا شہر میں خاصی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو شادی سے پہلے جنسی تعلقات سے اجتناب برتنے کی ترغیب دینا ہے۔

سولہ برس کی ایک لڑکی سٹیج پر کھڑے ہو کر کہہ رہی ہے کہ اکیلے رہنے میں بھی خوبصورتی ہے۔ وہ اپنے نوجوان ساتھیوں کو پیغام دے رہی ہے کہ بےراہ روی سے پرہیز کریں ورنہ مستقبل میں اس کے منفی نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ جبکہ سولہ برس کی ہی ایک اور لڑکی کا موقف یہ ہے کہ جنسی بےراہ روی سے مہلک بیماریوں کا خطرہ تو رہتا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم کام عیسائیت کے فرائض پورے کرنا ہے۔

بہرحال اس تمام بحث کی وجہ طبی امراض ہوں یا اخلاقی و مذہبی اقدار، یہ بات واضح ہے کہ امریکی صدر جارج بش کی قدامت پسندانہ اخلاقی اقدار ایسے قوانین مرتب کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے جو جنسی احتراز کو تقویت دیتے ہیں۔

گزشتہ برس بش انتظامیہ نے جنسی احتراز پر کام کرنے والی تنظیموں کو بارہ کروڑ ڈالر دیئے تاکہ وہ اپنی کوششیں جاری رکھ سکیں۔

امریکی انتظامیہ کے بعض رپبلیکن اراکین کے نزدیک عیسائیت اور مذہبی اقدار ہی اس مہم کی بنیاد ہیں جبکہ ایک رائے یہ بھی ہے دیگر اراکین اس مہم کی بنا پر اپنے قدامت پسندانہ موقف کو مضبوط بنانا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کی سٹار گلوکارہ برٹنی سپیئرز نے شادی سے پہلے جنسی تعلق سے مکمل اجتناب برتنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کی بنا پر جنسی احتراز کی یہ مہم برٹنی سپیئرز کو ایک رول ماڈل قرار دیتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد