| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل ٹی وی پر عورت کا گانا
کابل میں تقریباً ایک دہائی کے بعد ٹیلی ویژن پر کسی افغان خاتون کو گانا گاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کابل ٹی وی نے 80-1970 کی دہائی میں شہرت پانے والی افغان گائکہ سلمہ کے پرانے گانوں کو دوبارہ نشر کیا۔ ٹی وی پر عورت کے گانے سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ یہ اعتدال پسند صدر حامد کرزئی کی انتظامیہ کا آزاد خیالی اور ترقی پسندی کی طرف ایک قدم ہے۔ 1992 میں کمیونسٹ صدر نجیب اللہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لے کر ابتک اس طرح کی کوئی بھی چیز ٹی وی پر نہیں دکھائی گئی۔ 1996 میں جب طالبان برسرِ اقتدار آئے انہوں نے ٹی وی کو سرے سے بین کر دیا۔ 1992 اور 1996 کے درمیانی عرصے میں خانہ جنگی ہوتی رہی اور مجاہدین نے عورت کا ٹی وی پر آنا ممنوع قرار دیا۔ پیر کی شب کی نشریات میں صرف سلمہ کا ایک گانا دکھایا گیا جوپانچ منٹ تک جاری رہا۔
اطلاعات اور ثقافت کے وزیر سید مخدوم نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم جنس کے مسئلے سے ماورا اپنے ثقافتی کام کو پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ دو سال قبل طالبان انتظامیہ کے خاتمے کے بعد آہستہ آہستہ عورتیں بھی معاشرے میں بلند مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ 2002 سے لے کر ابتک کئی خواتین ٹی وی پر نیوز شو کر چکی ہیں۔ طالبان کے سخت گیر دور میں خواتین کو نوکری کرنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی بچیاں سکول جا سکتی تھیں۔ آجکل کابل میں کئی عورتیں سر پر سکارف یا منہ پر نقاب پہنے نوکری کرتی نظر آتی ہیں۔ اب انہیں مکمل جسم ڈھانپنے والا برقعہ پہننے کی پابندی نہیں۔ تاہم دیہی افغانستان میں ابھی بھی عورتیں اسی طرح ہی رہ رہی ہیں جیسے پہلے رہتی آئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||