| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصوری کا ’کارخانہ‘
پچھلے دنوں برطانیہ کے جنوبی شہر روچڈیل میں ’کارخانہ‘ نامی ایک بہت دلچسپ نمائش منعقد ہوئی۔ نمائش پندرہ نومبر سے چار جنوری تک چلی۔ اس نمائش میں چھ پاکستانی مصوروں نے شرکت کی جن میں عائشہ خالد، نُصرہ لطیف، حسنات محمود، عمران قریشی، طلحہ راٹھوراور سائرہ سیم شامل تھے۔ عمران قریشی اس نمائش کے کیوریٹر بھی تھے۔
ان سب مصوروں نے لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے آرٹ کی تعلیم حاصل کی تھی اور اب وہ دنیا کے مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ روچڈیل کی ’ٹچ سٹونز آرٹ گیلری‘ میں ہونے والی اس نمائش کا نام ’کارخانہ‘ تھا جو کہ برصغیر میں مغل فن کے کارخانوں کی طرف ایک اشارہ ہے۔ ایسے روایتی کارخانوں میں کئی مصور و کاریگر مل کر ایک ہی تصویر یا کتاب پرکام کیا کرتے تھے اور اس روایت کو دہراتے ہوئے ان آرٹسٹوں نے بھی کئی تصویروں پر ساتھ کام کیا ہے۔
اس اجتماعی کوشش کے لئے بین الاقوامی کورئیر یا ڈاک کا استعمال کیا گیا اور ہر آرٹسٹ نے ہاتھ سے بنے ہوئے ’وصلی‘ کاغذ پر ایک تصویر شروع کر کے آگے اپنے ساتھیوں کو بھجوادی۔ ہر آرٹسٹ نے تصویر میں کچھ اضافہ کر کے آگے بھیجی اور پھر تصویر شروع کرنے والے مصور نے آخر میں اس تصویر کی نوک پلک سنواری۔ ہر آرٹسٹ نے اس طرح کی دو تصویریں بنائیں اور یہی بارہ تصویریں نمائش کا مرکز بنیں لیکن ان کے علاوہ بھی ان چھ مصوروں نے اپنے کچھ فن پارے نمائش میں رکھے۔
ان مصوروں نے پہلے سے کوئی موضوعات طے نہیں کئے تھے لیکن نمائش دیکھ کر یہ واضح ہوا کہ ان تمام فن پاروں میں معاشرے میں تشدد، نو آبادیاتی نظام کے اثرات اور اقتدار کے دیگر پہلوؤں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ’کارخانہ‘ ایک بیحد دلچسپ نمائش ثابت ہوئی۔ بقول نمائش دیکھنے والے ایک شخص ’پچھلے پندرہ برس میں میں نے اتنی عمدہ نمائش نہیں دیکھی۔ یہ منفرد بھی تھی اور حوصلہ افزا بھی۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||