بیونس اور بونو نے میلہ لوٹ لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیونس اور بونو ان نامور گلوکاروں میں شامل تھے جنہوں نے جنوبی افریقہ کے رہنماء نیلسن مینڈیلا فاؤنڈیشن کی طرف سے منعقد کئے جانے والے ایڈز کنسرٹ میں حصہ لیا۔ جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کے گرین پوائنٹ سٹیڈیم میں پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اس کنسرٹ کو دنیا بھر میں ویب پر دکھایا گیا۔ کسنرٹ میں بیانس اور بونو کے علاوہ یورتھمکس، دی کورس، پیٹر گیبریئل، کوئین اور مس ڈئنامائیٹ سمیت راک اینڈ پاپ کی دنیا کے بیس بڑے ستاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر گلوکار بونو نے کہ ان کے بیونس کے ساتھ گائے گئے گیت میں کلیساؤں سے کہا گیا ہے کہ ’اپنے دروازے کھول دیں، اور اسے (مسئلے کو) پناہ دے کر ایچ آئی وی کے ساتھ لگا تعصب ختم کر دیں۔‘
اس کے بعد وہ نیلسن منڈیلا کو سٹیج پر اپنے ساتھ لے کر آئے اور تماشائیوں سے بھرپور داد وصول کی۔ پچاسی سالہ نیلسن منڈیلا نے، جو اپنی بیوی گریکا میکل اور امریکی ٹی وی کی میزبان اوپرا وِنفری کے ساتھ شو دیکھ رہے ہیں، کہا ہے کہ ایڈز اپارتھیڈ (نسلی علیحدگی) سے بھی بڑا چیلنج ہے۔ جنوبی افریقہ میں دنیا بھر کے ایچ آئی وائرس سے متاثرہ افراد کی سب سے بڑی تعداد آباد ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد چار کروڑ بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ ’ایڈز صرف ایک بیماری نہیں رہی بلکہ اب یہ انسانی حقوق کا ایک مسئلہ ہے۔ چھیالیس ہزار چھ سو چونسٹھ اسیری کے اٹھارہ سال میں میرا جیل کا نمبر تھا اور خیال کیا جاتا تھا کہ میری ذات اس نمبر میں سمٹ آئی ہے۔‘
نیلسن مینڈیلا نے کہا کہ اگر ہم نے کچھ نہ کیا تو دنیا میں ایچ آئی وی سے متاثرہ لاکھوں افراد ہندسوں کے گورکھ دھندے کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ آزاد دنیا میں سانس لینے کے باوجود قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اس لئے میں نے اپنے جیل نمبر کو اس مہم کے لئے استعمال کیا ہے۔ کنسرٹ میں باب گیلڈوف نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا جنہیں سن اسی کی دہائی میں افریقہ میں قحط پر قابو پانے کئے امدادی کنسرٹ کرنے پر سر کا خطاب دیا تھا۔ منتظمین کے مطابق اس پروگرام کو انٹرنیٹ اور ٹیلی وژن کے ذریعے دو ارب سے زیادہ افراد نے دیکھا۔ برطانوی آر اینڈ بی سٹار مس ڈائنامائیٹ اپنی پرفارمنس کے دوران مانع حمل کونڈوم شائقین کر طرف پھینکتی رہیں۔ ان کے گائے ہوئے ایک گیت کے بول تھے ’اپنی زندگی کو ہلاکت میں مٹ ڈالو‘۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||