BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 November, 2003, 21:37 GMT 02:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عمر ماروی پر پہلی اینی میٹڈ فلم

ماروی
ماروی کی کہانی حب الوطنی اور محبت کی داستان اور استعارہ ہے

وادی مہران کیحب الوطنی اور محبت کی داستان عمر ماروی کو کمپیوٹرگرافکس کی مدد سے پہلی بار اینیمیشن فلم کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔

سندھ یونیورسٹی کے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طلبہ نے یہ فلم اپنے امتحان کے پروجیکٹ کے طور پر بنائی لیکن یہ ایک یادگار فلم بن گئی کیونکہ سندھی زبان میں یہ پہلی اینی میٹیڈ فلم ہے کہا جاتا ہے کہ اینی میٹیڈ پروگرام پر بنائی گئی یہ پہلی پاکستانی فلم ہے۔

اس فلم میں پہلا منظر ماروی کے گاؤں بھالوا کا ہے۔تھر کے دیہاتی پس منظر میں ماروی اپنی سہیلیوں کے ساتھ رقص کرتی پانی بھرنے کے لئے نکلتی ہے۔ پس منظر میں شاہ عبداللطیف کی مشہور وائی (گیت) ’آئی مند ملہار کھنبا کندیس کپڑا‘ (بسنت کی رت لوٹ آئی ہے میں بسنتی جوڑا پہنوں گی) مشہور گائیکہ روبینہ قریشی کی آواز میں گونجتی ہے۔

دوسرے سین میں بھالوا کے لوگ ماروی کے حسن کی تعریف کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اتنی خوبصورت لڑکی کس کے نصیب میں لکھی ہے۔ گاؤں والوں کی بات چیت کے ذریعے کہانی آگے بڑھتی ہے۔

پھوگ نامی ایک گائیک اور بانسری بجانے والا نوجوان ماروی کے رشتہ کا امیدوار ہے لیکن ماروی کے والد مالہنو نے اپنی بیٹی کا ہاتھ اسے دینے سے انکار کردیتا ہے اور اس کی منگنی گاؤں کے کھیت نامی نوجوان سے کر دی جاتی ہے۔

تیسرا سین عمرکوٹ کا ہے جہاں وقت کے بادشاہ عمر سومرو سے پھوگ کو متعارف کرایا جاتا ہے۔ پھوگ رقابت کی آگ میں عمرکوٹ پہنچا ہے اور چاہتا ہے ہے کہ اگر ماروی اسے نہیں ملی تو کسی اور گاؤں والے کو بھی نہ ملے۔پھوگ عمر سومرو کو ماروی کی خوبصورتی اور اخلاق کے بارےمیں اس طرح بتاتا ہے کہ بادشاہ بغیر دیکھے ماروی پر عاشق ہو جاتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے پھوگ کو ساتھ لیکر بھالوا روانہ ہو جاتا ہے۔

کہانی کا ولن پھوگ جس کا بیان عمر کو ماروی کا فریفتہ بنا دیتا ہے

اونٹ پر سوار بادشاہ پھوگ کے ساتھ صبح سویرے جب بھالوا پہنچتا ہے تو لڑکیاں حسب روایت کنویں پر پانی بھرنے آ رہی ہوتی ہیں۔جیسے ہی ماروی کنویں سے ڈول میں پانی نکال کر اپنا گھڑا بھرنے لگتی ہے۔ عمر ایک پیاسے مسافر کے روپ میں نمودار ہوتا ہے اور ماروی سے پینے کے لئے پانی مانگتا ہے۔ جب ماروی اسے پانی پلانے لگتی ہے تو عمر پانی پینے کے بجائے پانی نیچے چھوڑتا چلا جاتا ہے۔

ماروی کی سہیلیاں خطرے کو بھانپ لیتی ہیں کہ مسافر پانی کا نہیں بلکہ ماروی کا پیاسا ہے لیکن اس سے پہلے کہ ماروی اور اس کی سہیلیاں وہاں سے بھاگ نکلتیں عمر ماروی کو پکڑ کر اونٹ پر بٹھا لیتا ہے عمرکوٹ کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔

ماروی کو عمرکوٹ کے محل میں بند کریا جاتا ہے۔دوسرے دن عمر ماروی کو بتاتا ہے کہ وہ اس کے حسن پر فدا ہوگیا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن ماروی بادشاہ کی بات ماننے سےانکار کردیتی ہے اور اسے بتاتی ہے کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور اپنے شوہر کی موجودگی میں کسی اور کی نہیں ہو سکتی۔ وہ بادشاہ سے کہتی ہے کہ اسے ہرحال میں اس کے وطن ملیر واپس بھیج دیا جائے۔

پھوگ اور عمر ماروی کے گاؤں میں

ماروی کو مہارانی بنائے جانے، محلوں میں رہنے، عمدہ کپڑوں اور زیورات کا لالچ دیا جاتا ہے لیکن وہ ان سب شاہی چیزوں کو ٹھکرادیتی ہے۔ جب ماروی شاہی لالچوں میں نہیں آتی تواسے قید کر دیا جاتا ہے لیکن وہ بضد رہتی ہے کہ اسے واپس وطن بھیج دیا جائے۔

فلم کا اختتام ماروی کے قید وبند پر ہی ہوتا ہے- اور آخری سین میں عمرکوٹ قلعہ کے دروازے پر موٹی موٹی زنجیریں پڑی ہوئی ہیں۔بھٹائی کی وائی، رات بھی مینہڑا وٹھا ( رات بھی میرے دیس پر زوردار بارش ہوتی رہی) استاد جمن کی آواز میں گونجتی ہے۔

پانچ گیتوں پر مشتمل چالیس منٹ دورانیہ کی اس فلم کا اسکرپٹ ممتاز ڈرامہ نویس اور ادیب نثار حسینی نے لکھا ہے۔ پس پردہ آوازیں ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے تعاون سے ریکارڈ کی گئیں ہیں۔

عمر کے کردار کی صداکاری گل حسن قریشی اور ماروی کا کردار مہتاب پٹھان کا ہے۔ جب کہ گیت روبینہ قریشی ٹ، ٹینا ثانی، استاد جمن اور رضا رجب علی کی آوازوں میں ہیں۔ ان سب لوگوں نے فلم کے لیے کام کرنے کا کوئئ معاوضہ نہیں لیا۔

ان فنکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں بلامعاوضہ کام کیا ہے کیونکہ یہ پہلی سندھی اینی میٹیڈ فلم ہے جو ثقافتی پس منظر میں بنائی گئی ہے یوں یہ زبان اور ثقافت کی خدمت ہے۔

ماروی بادشاہ کے کسی لالچ کو قبول نہیں کرتی اور مسلسل رو رو کر واپس وطن بھیجے جانے کا مطالبہ کرتی ہے

عمر ماروی کا قصہ آٹھویں صدی کا قصہ بتایا جاتا ہے جب عمر سومرو سندھ کا بادشاہ تھا- ماروی بھالوا کی رہنے والی تھی جو اب بھی تھر کے نگرپارکر کے علاقے میں واقع گاؤں ہے اور جہاں ہر سال علاقے کے لوگ ماروی کا میلہ لگاتے ہیں۔

سندھ یونیورسٹی کے انفرمیشن ٹیکنالوجی شعبے کے پروفیسر اور لندن کی برونن یونیورسٹی سے روبٹکس میں پی ایچ ڈی کرنے والے فلم کے پروڈیوسر ڈاکٹر عبدالوہاب انصاری فلم کے فنی پہلؤوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ اینی میٹیڈ فلم مائکرو میڈیا فلیش پروگرام میں بنائی گئی ہے۔ جس کو چلانے اور دیکھنے کے لئے کسی اضافی سافٹ ویئر کی ضرورت نہیں ہے اور ڈاکٹر انصاری نے بتایا کہ لوگوں کے اعزازی کنٹری بیوشن کی وجہ سے فلم کی لاگت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تاہم ایک اندازے کے مطابق دو سے تین لاکھ روپے خرچ ہو سکتا ہے۔

فلم کو بنانے کے دو اہم کردار ڈاکٹر انصاری اور عباس

تاریخی واقعات اور لوک کہانیوں پر بھارت میں نصف درجن ایسی اینی میٹیڈ فلمیں بنائی جا چکی ہیں جو کہ مختلف ٹی وی نیٹ ورکس پر ٹیلی کاسٹ بھی کی ہو چکی ہیں۔ان میں رامائن، بدھا، چھوٹا بیربل، ہنومان اور علی بابا قابل ذکر ہیں۔ اب سندھ کی تاریخ اور میتھالوجی نے اینی میٹڈ فلم سازی میں اپنا راستہ بنا لیا ہے دیکطیں کے اس کا مستقبل کیسا ثابت ہوتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد