| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’برن کا معجزہ‘
جرمنی کے سنیماؤں میں آجکل جس فلم نے دھوم مچا رکھی ہے اسکا نام ہے ’برن کا معجزہ‘ ۔ یہ فلم انیس سو چوّن کے ورلڈ کپ میں جرمنی کی غیر متوقع فتح کے تاریخی واقعے پر مبنی ہے اور ایک باپ اور بیٹے کی نگاہ سے اس واقعے کو دیکھتی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی ابھی اپنے زخم چاٹ رہا تھا۔ اسکے گلی کوچے ملبے کے ڈھیر بنے ہوئے تھے، معیشت ڈانواں ڈول تھی اور جرمن قوم کا حوصلہ بہت پست ہو چکا تھا۔ ایسے ماحول میں جرمنوں کے لئے فٹ بال کا ورلڈ کپ جیت لینا اتنی بڑی خوشخبری تھی کہ ان کے مردہ جسموں میں زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی ۔ یہ میچ سویٹزرلینڈ کے شہر برن میں ہوا تھا اسی لئے ہنگری کی مضبوط ترین ٹیم کو شکست دینے کا یہ واقعہ ’برن کا معجزہ‘ کہلاتا ہے۔
جرمنی میں جو لوگ اس وقت ساٹھ یا ستّر کے پیٹے میں ہیں انھیں وہ تاریخی لمحہ اچھی طرح یاد ہے جب ریڈیو پر اس فتح کا اعلان ہوا تھا۔ جرمن چانسلر شروڈر اُس وقت بارہ سال کے تھے اور فلم کا افتتاحی شو دیکھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ فلم کے ڈرامائی تاثر کو باپ بیٹے کی اُس ضمنی کہانی نے مزید اجاگر کر دیا ہے جس میں بیٹا بضد ہے کہ برن جاکر یہ میچ دیکھا جائے۔ وہ باپ کو قائل کرتا ہے کہ جب تک ہم خود تماشائیوں میں موجود نہیں ہونگے ہمارا پسندیدہ کھلاڑی گول نہیں کر سکے گا۔ باپ آخرِ کار مان جاتا ہے لیکن برن پہنچنے میں انہیں دیر ہو جاتی۔ باپ بیٹا جب میدان میں پہنچتے ہیں تو دونوں ٹیمیں دو دو گول سے برابر جا رہی ہیں لیکن اِن کے پہنچتے ہی بیٹے کا پسندیدہ کھلاڑی بجلی کی سی سرعت سے بڑھتا ہے اور گول کر دیتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||