| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم ’جنین‘ پر پابندی ختم
ایک اسرائیلی عدالت نے جنین کے پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی کارروائی پر بنی فلم پر عائد پابندی ہٹا دی ہے۔ اسرائیلی فلم بورڈ نے یہ کہہ کر اس فلم پر پابندی عائد کی تھی کہ اس میں واقعات کو توڑ مروڑ کر دکھایا گیا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے فلم سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ جج دالیا ڈورنر نے اپنے فیصلے میں کہا ’یہ امر کہ فلم میں جھوٹ شامل کیا گیا ہے، پابندی عائد کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔‘ اپریل دو ہزار دو میں اسرائیلی کارروائی کے دوران کئی فلسطینی اور اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ جب پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ کی نظریں جنین میں ہونے والے واقعات پر ہی تھیں، اسرائیلی عرب اداکار محمد بکری نے یہ فلم بنائی، جس پر اسرائیل نے پروپیگینڈا کہہ کر پابندی عائد کر دی۔ محمد کی اپیل پر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فلم بورڈ کا فیصلہ آزادیء اظہار کے بر عکس ہے۔
محمد بکری نے فیصلے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس فلم سے اسرائیلیوں کو فلسطینیوں کا نکتۂ نظر جاننے میں مدد ملے گی اور یہ کہ اس سے ’قبضہ ختم کرنے اور امن قائم کرنے میں‘ مدد ملے گی۔ جنین کی کارروائی کے دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق باون فلسطینی اور تئیس اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ پابندی عائد کئے جانے سے قبل فلم تین بار اسرائیل میں دکھائی گئی، تاہم ناقدین نے کہا فلم میں جانب داری سے کام لیا گیا ہے اور اس میں صرف فلسطینیوں کا موقف دکھایا گیا ہے۔ جنین میں ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کے رشتہ داروں نے کہا کہ اس فلم سے ان کے عزیزوں کے نام پر دھبہ لگےگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||