| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’اتنی میلی وردی دھوئے گا کون؟‘
نامور مزاح نگار مشتاق یوسفی نے لکھا تھا کہ لوگ کیوں اور کیسے ہنستے ہیں جس دن ان سوالوں کا صحیح جواب معلوم ہو جائے گا اس دن لوگ ہنسنا چھوڑ دیں گے۔ عبید زاکانی لکھتے ہیں کہ فقیر کی گالی، عورت کے تھپڑ اور مسخرے کی بات سے آزردہ نہیں ہونا چاہئے۔
دیکھا جائے تو مزاحیہ شاعر ہی عوامی شاعر ہیں۔ جو عوام کے حقیقی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں، عوام کے دکھوں کو اجاگر کرتے ہیں اور اصلاح کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ حیدرآباد بڑا ادب نواز شہر رہا ہے۔ ملک کے بعض بڑے شعرا حمایت علی شاعر، محسن بھوپالی اور قابل اجمیری کا اس شہر سے ہی تعلق تھا یا انہوں نے ایک طویل عرصہ یہاں گزارا ہے۔ اس کے علاوہ محمود صدیقی، کاظم رضا، مرزا عابد عباس، الیاس عشقی، عنایت علی خاں، انوار احمد زئی، ضیاء الحق قاسمی اردو ادب گے وہ بڑے نام ہیں جن کا تعلق حیدرآباد شہر سے رہا ہے۔
ماضی میں حیدرآباد میں کئی یادگار مشاعرے منعقد ہو چکے ہیں جو کہ عموماً ضلع کے ڈپٹی کمشنر منعقد کرواتے تھے - لیکن جنرل مشرف کے نئے نظام کے نفاذ کے بعد اب یہ ادارہ ختم ہو چکا ہے۔ یہاں بڑے مشاعروں کے علاوہ مشاعرہ بر مکان کا بھی خاصا مقبول رواج چلا آ رہا ہے جو آج بھی قائم ہے- اس روایت کی امین بزم فروغ ادب ہے جو گزشتہ پچاس برس سے ہر پندھرواڑے پر مشاعرے منعقد کرواتی ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی بڑی ادبی تنظیمیں وقتاً فوقتاً مشاعرے منعقد کرواتی رہی ہیں۔ حیدرآباد اردو کے علاوہ سندھی ادب کا بھی گہوارہ ہے۔ یہاں سندھی اردو مشترکہ اور الگ سندھی مشاعرے بھی بڑے کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ بقول ضیاالحق قاسمی ساتھ ساتھ رونے سے گلے شکوے کم ہوتے ہیں تو ساتھ ساتھ ہنسنے سے اور بھی اچھائیاں سامنے آئیں گی۔ ہنسنے ہنسانے کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے زعفران زار عالمی مزاحیہ مشاعرہ کمال الدین میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام گزشتہ ہفتے دیالداس کلب حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ تقریب کی صدارت صوبائی وزیر آبکاری و محصولات عبدالرؤف صدیقی نے کی جو خود بھی ایک شاعر ہیں۔ جبکہ نظامت کے فرائض مزاح گو شاعر ضیا الحق قاسمی نے انجام دیئے۔
مشاعرے میں صدر مجلس عبدالرؤف کے علاوہ ڈاکٹر انعام الحق (اسلام آباد)، جاوید سرفراز (اسلام آباد)، زاہد فخری (لاہور) ، کراچی سے امیرالاسلام ہاشمی، اطہر شاہ زیدی، ہر فن لکھنوی، سعید آغا، سید حسنین جلیسی، عذرا صادق، فرحت ندیم، شکیلہ ثروت، عبدالحکیم ناصف، رفیق مغل، سید نصرت علی، حیدرآباد سے میم شین عالم، مرزا عاصی، سید مرتضی ڈاڈاہی، ذوالفقار قائم خانی، اعظم کمال، احسان نہڑیو و دیگر شعراء نے بھی اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے بھر پور داد حاصل کی۔ شعرا نے محبت اور سماجی مسائل سے لیکر ملکی اور عالمی سیاست کے موضوعات پر طنز و مزاح سے بھرپور شعر پڑھے۔ زبردست داد و تحسین کےساتھ ساتھ نوک جھونک اور ہوٹنگ بھی ہوتی رہی۔ کئی شعراء نے اپنےاشعار میں جمالی حکومت اور صدر جنرل پرویز مشرف پر تنقید کی تو کئی ایک نے صدر کی وردی اور حکومت، اپوزیشن مذاکرات کو موضوع بنایا۔
صوبائی وزیر نے اشعار میں ہی حکومت کا دفاع کیا۔ مزاح گو شاعر ضیاءالحق قاسمی نے اردو کے نامور شعرا کی مشہور اشعار پر پیروڈی سنا کر محفل کو گرمائے رکھا - رات گیارہ بجے سے شروع ہونے والی ہنسنے ہنسانے کی یہ محفل صبح پانچ بجے تک جاری رہی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||