BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 October, 2003, 03:52 GMT 08:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلم ’اسامہ‘ پر ایک نظر

فلم کی ’اسامہ‘
بچی کی خاموش لیکن بولتی آنکھیں طالبان دور میں عورتوں پر بیتنے والے مسائل کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔

طالبان دور حکومت میں خواتین کی حالت زار پر بننے والی فلم ’اسامہ‘ لندن فلم میلے میں شامل ہے۔ افغان ہدایت کار صدیق برمک کی یہ تخلیق ہے سنیچر کی رات لیسٹر سکوائر کے اوڈین سنیما میں پیش کی گئی۔

کابل کی سڑکوں پر ایک بارہ برس کا بچہ، ہاتھ میں ٹین کی دھونی پکڑے لوگوں کی نظر اتارتا نظر آتا ہے۔ ’خدا تمہیں بری نظر سے بچائے ثمر قند کی لڑکیو، تم پر بری نظر نہ پڑنے پائے‘۔

یہ جملے ادا کرتا سپندی وجہ بے وجہ لوگوں کی نظر اتار رہا ہے۔ ایسے میں ایک بیوہ عورت اور اس کی بچی، جو سپندی ہی کی ہم عمر ہے، سکرین پر نمودار ہوتے ہیں۔ دونوں کے پاس اس بچے کو دینے کے لئے ایک پائی بھی نہیں مگر وہ کہتا ہے ’میں بنا اجرت ہی یہ کام کرتا رہوں گا‘۔

ایسے میں نیلے برقعوں میں ملبوس افغان عورتیں روزگار کی خاطر ایک جلوس کی شکل میں نکلتی دکھائی دیتی ہیں۔ کتبے اٹھائے یہ بیوائیں نعرے لگا رہی ہیں کہ ’ہمیں نوکری چاہئے، ہم روٹی روٹی کو محتاج ہیں‘۔

یہ دونوں ماں بیٹی بھی نہ چاہتے ہوئے اس جلوس کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ایسے میں سپندی کو گاڑیوں کی گڑگڑاہٹ سنائی دیتی ہے۔ ’بھاگو طالبان آرہے ہیں‘ اور پلک جھپکتے میں طالبان، عورتوں کے جلوس پر دھاوا بول دیتے ہیں۔

ماں بیٹی بھی کسی نہ کسی طرح گھر کا رخ کرتی ہیں۔ گھر پر بیوہ، اس کی ماں اور بیٹی رہتے ہیں لیکن طالبان دور میں حالات سے نبرد آزما ہونا ان عورتوں کے لئے آسان نہیں۔

رات کے اندھیرے میں سہمی ہوئی بچی جب نانی کی گود میں سر رکھ کر لیٹتی ہے تو نانی اسے ہر بار کی طرح یتیم لڑکے کی کہانی سناتے ہوئے اس کے چوٹی میں گندھے بالوں کو تراش دیتی ہے۔ یعنی اب گھر میں عورتوں کے علاوہ ایک بارہ برس کا لڑکا بھی گھر پر مرد کی حیثیت سے ان کے ساتھ ہے۔

اپنے شہید باپ کی شلوار قمیض پہنے، سر پر نیلی ٹوپی جمائے وہ بارہ برس کا ’بچہ‘ صبح اپنی ماں کے ساتھ روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے۔

آخر بچے کو ایک چائے خانے پر نوکری مل جاتی ہے لیکن ہر بار طالبان کی آمد اس بچی کو سہما دیتی ہے۔

آخر وہی ہوتا ہے جس کا اسے خدشہ ہوتا ہے۔ چائے خانے کا دروازہ کھلتا ہے اور ایک مولوی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے مدرسہ میں داخل کرنے ساتھ لے جاتا ہے۔

اور یہاں سے فلم ایک نیا موڑ لیتی لیتی ہے۔ لڑکی کا دوست سپندی بھی اسی مدرسہ میں داخل ہوتا ہے۔ مدرسے کے بچے سہمی آنکھوں والے لڑکے کو ’لڑکا‘ ماننے پر تیار نظر نہیں آتے۔ سپندی بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: ’نہیں، نہیں یہ لڑکا ہے اور اس کا نام اسامہ ہے۔‘

مدرسہ میں ’اسامہ‘ حیران نظروں سے سب کو دیکھتا ہے مگر ماحول کا حصہ نہیں بن پاتا۔ سپندی ہر موقع پر اس کا دفاع کرتا ہے۔

لیکن یہ بھید زیادہ دن نہیں چھپ سکا۔ ’اسامہ لڑکا نہیں لڑکی ہے‘ یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔

سزا کے طور پر اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اندھے کنویں میں لٹکا دیا جاتا ہے۔ کئی گھنٹوں کی آہ و بکا کے بعد جب اسے باہر نکالا جاتا ہے تو وہ صرف اپنی ماں کو پکار رہی ہوتی ہے۔

طالبان ایک بڑے مجمع کے سامنے اس کا ہاتھ ایک ساٹھ سالہ بوڑھے کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ یا بقول ایک شخص کے اپنی جانب سے عام معافی کا اعلان کرتے ہیں یعنی اس معصوم کو بوڑھے مولوی کے نکاح میں دے دیا جاتا ہے۔

فلم کا اختتام ’اسامہ‘ کی سسکیوں اور پس منظر میں چلنے والے ایک قدرے پرسوز گانے پر ہوتا ہے۔

اس فلم میں بچی کی خاموش لیکن بولتی آنکھیں طالبان دور میں عورتوں پر بیتنے والے مسائل کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد