| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جون لینن کے فن پارے
مشہور پاپ گروپ ’بیٹلز‘سے تعلق رکھنے والے مقتول موسیقار جون لینن کے فن پاروں کی نمائش سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں شروع ہوئی ہے۔ اس نمائش میں لِتھوگراف، سکرین پرنٹ اور ایچنگز شامل ہیں اور یہ تمام فن پارے ایڈنبرا کے ڈوم کے مقام میں لگی ہوئی ہیں۔
اس نمائش کا نام سابق بیٹل کے ایک مشہور گیت ’جسٹ ایمیجِن‘ پر رکھا گیا ہے۔ تیس اکتوبر کو یہ نمائش لندن کی ’گیلری ون‘ منتقل ہو جائے گی۔ یہ فن پارے انیس سو اڑسٹھ اور انیس سو اسی کے درمیان بنائے گئے تھے اور یہ موسیقار کی زندگی کے مختلف واقعات کی عکاسی کرتے ہیں۔ لینن کو انیس سو اسی میں نیو یارک کی ان کی رہائش گاہ کے باہر قتل کر دیا گیا تھا۔ جون لینن نے اپنا نام موسیقی میں روشن کیا لیکن موسیقی سے پہلے وہ مصوری میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے انیس سو ستاون سے انیس سو ساٹھ تک لیورپول آرٹ سکول میں باقائدہ آرٹ کی تعلیم حاصل کی تھی۔
انیس سو ساٹھ سے ان کا ’بیٹلز‘ پاپ گروپ کے ساتھ کام بہت بڑھ گیا اور اس دہائی میں یہ گروپ دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ اس کے باوجود جون لینن کہا کرتے تھے کہ آرٹ ان کے لئے موسیقی سے زیادہ اہم ہے۔ ان فن پاروں کی قیمتیں چار سو سے لے کر چار ہزار پاؤنڈ تک رکھی گئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||