| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نصرت فتح علی کی وراثت
چھ برس پہلے یہاں لندن ہی کے ایک ہسپتال میں نصرت فتح علی خان دنیا سے چلے گئے اور اگرچہ وہ آج نہیں لیکن جنوبی ایشیا کے لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ نصرت فتح علی نے حضرت علی کی منقبت اور داتا گنج شکر کے قصیدوں سے لیکر بھجن تک گائے۔ ان کے ہاں ایسی کون سی چیز ہے جس کی وجہ سے وہ جنوبی ایشیا میں ہر عمر اور ہر مذہب اور علاقے کے لوگوں کو بلاتفریق ہردلعزیز ہیں؟
’یہ صرف ریاض کی بنیاد پر نہیں ہوتا، یہ روایت سے بھی نہیں نکلتا۔ بلکے ایک ایسا مقام آتا ہے جہاں ہر مشکل سے مشکل چیز آسان ہو جاتی ہے۔ نصرت کے ہاں ایسا ہی دکھائی دیتا ہے جہاں محسوس ہوتا ہے کہ تانیں تصوف کے سمندر کی گہرائی سے نکل کر آ رہی ہوں۔ یہ ایک نایاب بات ہے۔‘ نصرت فتح علی خان قوالی کی روایتی شکل کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ اپنی تجرباتی موسیقی کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔ نصرت فتح علی خان ایک ایسا نام تھے جو پوری دنیا میں یکساں طور پر مقبول تھے۔ انہوں نے یورپ اور امریکی کے بڑے بڑے موسیقاروں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ مغرب میں انہیں اتنی پذیرائی کیسے حاصل ہوئی؟ برطانیہ میں موسیقی کی ایک ناقد جمیلہ صدیقی نے نصرت فتح علی خان کے ایک انٹرویو کے حوالے سے بتایا: ’صوفیانہ موسیقی کی ایک اپنی زبان ہے، ایک ایسی زبان جسے ہر کوئی سمجھ سکتا ہے۔ یہ زبان، تہذیب اور کلچر سے ہٹ کر ایک ایسی چیز ہے جو ہر انسان کا دل چھو لیتی ہے۔‘
لیکن ان کے ناقدین ہمیشہ نصرت فتح علی خان کی وراثت کی بات کرتے ہیں اور سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ ان کی روایت اور ان کے تجربات کو آگے کون بڑھائے گا؟ لاہور سے تعلق رکھنے والے موسیقی کے ناقد ثروت علی کا کہنا ہے کہ نصرت فتح علی خان کی بے وقت موت کی وجہ سے ان کے بعد قوالی کی کوئی توانا روایت نہ بن سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ کچھ اور سال زندہ رہتے تو ممکن ہے وہ زیادہ توانا روایت چھوڑ جاتے۔ لیکن ثروت علی کے یہ خیالات پاکستان میں موسیقی کے چاہنے والے اکثر لوگوں کے المیے کو ظاہر کرتے ہیں۔ ملک میں اکثر یہ رونا رویا جاتا ہے کہ اب موسیقی کا کیا ہوگا لیکن پھر بھی موسیقی کا کچھ نہ کچھ ہوہی جاتا ہے۔ جب کہ بھارت میں جہاں موسیقی کی روایات زیادہ زندہ شکل میں موجود ہیں ان کے برعکس خیالات پائے جاتے ہیں۔ موسیقار مدن گوپال سنگھ کا کہنا ہے کہ موسیقی میں وراثت کے بارے میں اس طرح سوچنا موجودہ گلوکاروں کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ جہاں تک نصرت فتح علی خان کا تعلق ہے انہوں نے جو قدم اٹھایا وہ ایک quantum leap یا بہت بڑا قدم ہے اور یہ بات صرف تعلیم سے نہیں آتی۔ کچھ لوگوں پر عنایت ہوتی ہے۔’مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ نصرت فتح علی خان پر اللہ میاں کا ہاتھ تھا‘۔ ’اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کے ہم عصر اور اس کے بعد آنے والے موسیقاروں کے ساتھ زیادتی ہو گی۔‘ مدن گوپال سنگھ کا کہنا ہے کہ وراثت کبھی مرتی نہیں۔ پانی کے نہ ملنے کی وجہ سے پودا سوکھ تو ضرور سکتا ہے لیکن اگر دوسال بعد بھی آبیاری کریں تو کچھ نہ کچھ باہر ضرور آئے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |