گلیمر میں گم ہوتا چھوٹے فنکاروں کا بچپن

،تصویر کا ذریعہ spice

بھارت کے معروف اداکار سلمان خان کی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ میں جتنی تعریف سلمان کے کام کی ہوئی اتنی ہی تعریف منی کا کردار ادا کرنے والی ہرشالي ملہوترا کی بھی کی جا رہی ہے۔

بھارتی سینما کی تاریخ میں بچوں کی اداکاری سے بڑوں کا دل جیت لینے والی یہ کوئی پہلی مثال نہیں ہے۔

عامر خان کی فلم ’تارے زمین پر‘ میں کام کرنے والے درشیل سفاری کی اداکاری کی بات ہو یا ساٹھ کی دہائی میں سینیما کے پردے پر نظر آنے والے نعیم سید عرف جونیئر محمود جیسے فنکاروں کی ایک فہرست طویل ہے۔

لیکن کیا پردے پر اپنی معصومیت سے بڑوں کا دل جیتنے والے ان بچوں کا بچپن کہیں کھو رہا ہے؟ بی بی سی ہندی نے اس حوالے سے ایک نظر ڈالی ہے۔

تلخ حقیقت

،تصویر کا ذریعہcolors

بچوں کے ڈاکٹر وجے كمار نے چھوٹے فنکاروں کی حالت زار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’چھوٹی عمر میں ملنے والی تعریف بڑھتی عمر میں مسئلے کی وجہ بنتی ہے۔‘

’مقبولیت کم ہونے کے بعد بچے احساس کمتری سے گزرنے لگتے ہیں اور بہت سے بچے جو بچپن میں پیارے نظر آتے ہیں وہ جوانی میں ہونے والے جسمانی تبدیلیوں کو قبول نہیں کر پاتے۔‘

ڈاکٹر ہریش شیٹی کا کہنا ہے ’بڑے لوگ ناکامی کو سمجھ لیتے ہیں لیکن بچوں کے لیے ناکامی سے نمٹنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔‘

ہریش کے مطابق بچوں پر بالی وڈ کی دوڑ کا دباؤ بہت گہرا ہوتا ہے اور وہ بالی وڈ کی چکا چوند لائف کم ہونے کی وجہ سے غصے، چڑچڑے پن، اداسی اور سنگین ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

عمر سے پہلے بالغ

،تصویر کا ذریعہcolors

چھوٹے آرٹسٹ سے اداکارہ بننے والی ہسكا موٹوانی اور بچیوں دولہن کی آرٹسٹ اوكا گور اپنے شو کے ختم ہونے کے بعد اچانک بالغ نظر آنے لگیں۔

اس پر یہ بحث شروع ہوئی کہ کہیں انھیں آخری وقت تک عمر روکنے کی ادویات تو نہیں دی جا رہی تھیں جو شو ختم ہونے پر بند کر دی گئیں؟

ڈاکٹر وجےكمار اس بات کو قبول نہیں کرتے لیکن مسترد بھی نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں ’عمر کو روکنے یا بڑھانے کے لیے کوئی دوا دستیاب نہیں ہے تاہم کچھ سٹیرائیڈز ایسے ہیں جن کے غلط استعمال سے ایسا کیا جا سکتا ہے لیکن یہ یقینی ہے کہ اس سے ایفیکٹ ہوتا ہی ہے۔‘

بھارت میں سنہ 1960 کی دہائی میں بچوں کے کردار ادا کرنے والی اداکارہ فریدہ کہتی ہیں کہ میں نے اس حوالے سے سنا ہے لیکن کوئی ثبوت نہیں ہے کہ چھوٹے فنکاروں کو بڑے کرنے کے لیے ادویات دی جاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’بچیوں دولہن کی لڑکی وہ کتنی چھوٹی تھی؟ لیکن اب وہ عورت بن گئی ہے۔ ایسے میں آپ کی عمر سے پہلے بڑا ہونا تاکہ آپ میڈیا میں رہ سکیں یہ آپ کے جسم کے لیے انتہائی غلط ہے۔‘

دوا

،تصویر کا ذریعہjr mehmood

اپنے زمانے کے چائلڈ سپر سٹار جونیئر محمود کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی عمر میں جب کام ملنا بند ہو گیا تھا تب میں مایوس نہیں ہوا، مجھے پتہ تھا کہ ایسا ہوگا اور پھر میں نے اپنا رخ سٹیج اور مراٹھی فلموں کی جانب کر لیا۔

آج مراٹھی فلمیں بنانے والے جونیئیر محمود بتاتے ہیں ’مجھے ادویات کی ضرورت کبھی نہیں پڑی اور نہ ہی مجھے کسی نے ایسی دوائیں دیں، ایسے الزامات صرف افواہیں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہbaby farida

فریدہ بھی دوا کی باتوں سے انکار کرتے ہوئے کہتی ہیں ’میں اقتصادی مجبوری میں فلم انڈسٹری میں آئی تھی اور جب میرے بڑے ہونے کے ساتھ مجھے اداکاری کے پیشکش ہونے لگی تو میری ماں نے میری شادی کروا دی۔‘

لاتعلق رویہ

،تصویر کا ذریعہamol gupte

’سٹینلی کاڈبہ‘ اور ’ہوا ہوائی‘ جیسی بال فلمیں بنانے والے ڈائریکٹر امول گپتے نے اپنے بیٹے پارتھو گپتے کے ساتھ دو فلمیں بنائی ہیں لیکن وہ بچوں کے فلم اور ٹی وی کے طریقۂ کار سے کافی ناراض ہیں۔

امول کہتے ہیں ’میں نے بچوں کے قومی کمیشن میں اپیل دائر کی ہے کہ چھوٹے فنکاروں کے لیے کچھ شرائط بنائی جائیں لیکن ابھی تک کچھ جواب نہیں آیا جو تشویشناک ہے۔‘

امول اسی لاپرواہی کی وجہ سے کچھ وقت کے لیے اپنے بیٹے کو سینیما کی چکاچوند سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔

بجرنگی بھائی جان سے مشہور ہوئی ہرشالي ملہوترا کی ماں کاجل ملہوترا بھی اپنی بیٹی کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں اور وہ دو سال بعد اسے واپس دہلی لے جانا چاہتی ہیں۔