صدر اوباما کا لیونارڈ نیموئی کو خراج عقیدت

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
امریکی صدر براک اوباما نے شہرۂ آفاق سیریز سٹار ٹریک میں مسٹر سپوک کا کردار ادا کرنے والے امریکی اداکار لیونارڈ نیموئی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
لیونارڈ نیموئی 83 سال کی عمر میں لاس اینجلیس میں انتقال کر گئے تھے۔
صدر اوباما نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ’ مجھے سپوک سے پیار ہے۔‘
’لیونارڈ زندگی بھر فن اور انسانیت سے پیار کرنے والے تھے، وہ سائنس کی حمایت کرنے والوں میں سے تھے اور اپنے وقت اور قابلیت کی قدر کرنے والے تھے۔‘
صدر اوباما کے مطابق’ اس میں کوئی شک نہیں کہ لیونارڈ سپوک تھے، ٹھنڈے مزاج کے، منطقی، بڑے کان اور متوازن سوچنے والے، اور وہ سٹار ٹریکس کے انسانی مستقبل کے بارے میں پُر امید وژن کا مرکز تھے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لیونارڈ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور سٹار ٹریکس ترغیب کا باعث بننے والوں میں سے تھے۔
جمعے کو لیونارڈ کے بیٹے ایڈم نے بتایا تھا کہ ان کے والد کی وفات پھیپھڑوں کی ایک موذی بیماری کی وجہ سے جمعے کی صبح ہوئی۔
نیموئی نے لمبے عرصے تک اداکار اور ہدایتکار کی حیثیت سے کام کیا اور مگر ان کی وجۂ شہرت ایک نیم انسان نیم دیومالائی کردار کی وجہ سے تھی جور سٹار ٹریک سیریز میں انہوں نے ادا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ سال انھوں نے انکشاف کیا تھا کہ وہ پھیپھڑوں کی موذی بیماری کا شکار ہیں باوجود اس کے کہ انھوں نے 30 سال قبل تمباکو نوشی ترک کر دی تھی۔
19 فروری کو انہیں سینے میں درد کی شکایت پر ہسپتال لے جایا گیا جس کے بعد انھوں نے ٹویٹ کی کہ ’زندگی ایک باغ کی طرح ہے۔ خوبصورت لمحات آتے تو ہیں مگر انہیں محفوظ نہیں رکھا جا سکتا سوائے یادوں کے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انھوں نے اس ٹویٹ کے آخر میں ’LLAP‘ لکھا جو اُن کی مشہور لائن تھی جس کا مطلب ہے ’لمبی زندگی جیو اور ترقی کرو‘ یہ اُن کی آخری ٹویٹ تھی۔
جارج تکائی جنہوں نے سٹار ٹریک میں ہیکارو سولو کا کردار ادا کیا تھا اور نیموئی کے دوست تھے نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’لفظ غیر معمولی کا استعمال اکثر زیادہ کیا جاتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ لیونارڈ کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ وہ ایک غیر معمولی طور پر باصلاحیت انسان تھے اور وہ بہت ہی نفیس انسان بھی تھے۔‘
انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امریکی خلائی تحقیق کے ادارے ناسا نے ٹویٹ کی جس میں وہ ایک خلائی شٹل کی نقل کے سامنے کھڑے ہوئے تھے۔
سٹار ٹرک ہی کے اداکار ولیم شیٹنر جنھوں نے نیموئی کے ساتھ سٹار ٹریک میں برسوں فن کا مظاہرہ کیا نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’انہیں نیموئی سے ایک بھائی کی طرح محبت تھی اور ہم سب اُن کی حسِ مزاح، اُن کی صلاحیتوں اور اُن کی محبت کرنے کی قابلیت کو یاد کریں گے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
نیموئی نے 1966 میں سپوک کا کردار ادا کرنا شروع کیا جس نے اُن کی فنی زندگی کو شناخت دی جسے انھوں نے تین سیریز اور اس کے بعد بننے والی کئی فلموں میں ادا کیا۔
نیموئی کی سوانح حیات کی دو جلدیں ہیں ایک ’آئی ایم ناٹ سپوک‘ جو 1975 میں شائع ہوئی اور دوسری ’آئی ایم سپوک‘ جو اس کے دو دہائیاں بعد شائع ہوئی جو اُن کے ملے جلے خیالات کی عکاس ہیں۔
نیموئی نے سپوک کے علاوہ اداکاری اور ہدایتکاری میں کامیابی حاصل کی اور موسیقی، مصوری اور فوٹوگرافی سے بھی انہیں دلچسپی تھی۔
انھوں نے ایڈونچر سیریز مشن امپوسبل میں بھی کام کیا اور انہوں نے بعد میں سٹار ٹریک کی دو فلموں کی ہدایات دیں جن میں سے ایک ’دی سرچ آف دی سپوک‘ اور دوسری ’دی لانگ ووئج ہوم‘ تھی اور 1987 میں انھوں نے ایک ہٹ کامیڈی بنائی جس کا نام تھا ’تھری مین اینڈ اے بے بی‘ جو اس سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم تھی۔
نیموئی نے اپنے پھیپھڑوں کے کینسر کا اعلان گذشتہ سال ٹوئٹر پر کیا ’میں نے تمباکو نوشی 30 سال قبل ترک کر دی تھی مگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔ دادا نے کہا اب چھوڑو۔‘
ان کے اسی ٹوئٹر اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے اُن کی پوتی نے اُن کی وفات کی خبر دی۔







