کوئی اداکار وہ کردار نہ کر پاتا: نصیرالدین

،تصویر کا ذریعہ
بالی وڈ کے تجربہ کار اداکار نصیرالدین شاہ نیشنل نے تھیٹر سکول میں اداکاری کی تین برس کی تعلیم کے بعد بھی پونے کے فلم انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا کیونکہ ان کی نظر میں یہ فلم انڈسٹری کا پاسپورٹ تھا۔
انہیں یقین تھا کہ ان کی طرح کی فلمیں بنانے والے لوگ وہاں موجود ہیں تو کام مل ہی جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔
بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں نصیرالدین شاہ نے ان چار افراد کا ذکر کیا جو ان کی زندگی میں خاص مقام رکھتے ہیں۔
گلزار
نصیر مرزا غالب کی زندگی پر مبنی گلزار کے معروف ٹی وی سیریل میں اہم کردار نبھانے کو اپنی بڑی خوش قسمتي تسلیم کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHoture Images
وہ کہتے ہیں ’ میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ میں کیا، دنیا کا کوئی اداکار وہ کردار نہیں کر پاتا اگر وہ سکرپٹ نہ ہوتا۔‘
نصیر کہتے ہیں ’گلزار بھائی کے لیے کچھ بھی کروں گا۔‘
شیام بینیگل
نصیر کہتے ہیں ’لوگوں کی رائے نے ہی مجھے پیدا کیا ہے، اگر شیام بینیگل، القاضی صاحب وغیرہ اپنی رائے نہ دیتے تو آج میں وہ نہ ہوتا جو ہوں۔‘

بینیگل نے نصیر کو ’ نشانت، منتھن، اور ’بھومکا‘ جیسی یادگار فلموں میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سئی پرانجپے

،تصویر کا ذریعہSparsh
متوسط خاندانوں کی کہانیوں کو ہنسی مذاق میں پرو کر فلمیں بنانے والی سئی پرانجپے کی پہلی فلم ’سپرش‘ میں نصیرالدین شاہ نے ایک نابینا کا کردار ادا کیا۔
وہ کہتے ہیں ’سئی نے مجھے بلایا اور سکرپٹ پڑھنے کو دی۔ میں نے پہلا صفحہ پڑھا اور کہا کہ میں یہ فلم کر رہا ہوں۔ سئی نے کہا پڑھ تو لو۔ میں نے کہا باقی گھر جاکر پڑھوگا۔‘
نسیر کہتے ہیں کہ اس سے بہتر کردار انھوں نے نہیں کیا۔
شیکھر کپور
لیکن بالی وڈ اور ہالی وڈ دونوں ہی ان کی قابلیت کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے۔

وہ کہتے ہیں ’فلم معصوم میں کام کرتے وقت مجھے ایک دن میں پتہ چل گیا تھا کہ یہ کتنا قابل آدمی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے لیکن اس انڈسٹری نے اسے فلمیں نہیں بنانے دیں۔‘
نصیرالدین شاہ ’معصوم‘ کو بھی اپنے کیریئر کی شاندار فلم تسلیم کرتے ہیں۔







