خوف کی نذر ہوتا ڈھول بجانے کا فن

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ، بنوں
سمیع اللہ بنوں شہر میں ڈھول بجانے کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ وہ گذشتہ 25 برسوں سے یہ کام کررہے ہیں جبکہ ان کے آباؤ اجداد بھی اسی ہنر سے منسلک تھے۔ تاہم تیزی سے بدلتے ہوئے حالات اور فنکاروں اور میوزک سے وابستہ افراد پر حملوں کے باعث اب یہ پیشہ ان کے لیے کچھ زیادہ پرکشش نہیں رہا۔
سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ پہلے اس ہنر میں پیسے زیادہ تھے اور لوگ بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے لیکن اب حالات کافی حد تک حالات تبدیل ہوگئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بنوں اور اردگرد کے علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں ہورہی ہیں اور لوگ بے گھر ہو رہے ہیں جس سے علاقے میں ایک خوف اور تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
’میرے والد اور دادا یہ کام کرتے آئے ہیں اور میں بھی دو وقت کی روٹی اسی ہنر سے پیدا کرتا رہا ہوں لیکن اب میرے بیٹے یہ کام کرنے کےلیے تیار نہیں۔ میرے دو بیٹے ہیں جن میں ایک محکمۂ پولیس میں ملازم ہیں جبکہ دوسرا سرکاری سکول میں استاد ہیں۔‘
سمیع اللہ کے بقول ’ہم فنکار حسّاس لوگ ہیں ہم کسی پر جبر نہیں کر سکتے، میں نے اپنے بیٹوں کو خود اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کےلیے چھوڑ دیا ہے، انھوں نے باپ دادا کا پیشہ ترک کر کے ملازمت اختیار کرلی ان کی اپنی مرضی ہے ، میں ان کے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتا۔
انھوں نے کہا کہ پہلے بنوں اور اطراف کے اضلاع کرک، لکی مروت اور کوہاٹ میں ڈھول بجانے والوں کے کئی ڈیرے قائم تھے لیکن اب ان میں بہت حد تک کمی آگئی ہے۔
سمیع اللہ کے مطابق بنیادی وجہ یہی ہے کہ فنکاروں اور گلوکاروں پر حملے ہورہے ہیں، انھیں شدت پسند یا مذہبی عناصر کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے اب اس جانب لوگ کم آرہے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا کا ضلع بنوں اگر ایک طرف مذہبی جماعتوں کا گڑھ رہا ہے تو دوسری طرف اس شہر کے باسیوں نے سالہا سال سے جاری بعض ثفافتی روایات کو بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنوں شہر میں ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے کی روایت قیام پاکستان سے پہلے سے رائج ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ شادی بیاہ کے مواقعوں پر پارکوں اور بازار میں جمع ہوکر ٹولیوں اور گروپوں کی شکل میں رقص کرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ روایت بنوں ’مازدیگرے` کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

شہر میں یہ ایک روایت سی بن گئی ہے کہ جب کہیں کوئی شادی ہو رہی ہو تو وہاں کے نوجوان چاہے شہر سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہوں گاڑیوں میں بیٹھ کر بارات کی شکل میں بازاروں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں قائم پارکوں میں جاکر ڈھول کی تاب پر روایتی رقص کرتے ہیں اور بھنگڑے ڈالتے ہیں۔
چھٹی کے دن تو بنوں شہر میں ایک جشن جیسا سماں ہوتا ہے۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ایک ہی وقت میں کئی شادی کی پارٹیاں پہنچ جاتی ہیں جس کی وجہ سے پارکوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔
بنوں سے تعلق رکھنے والے پشتو زبان کے نامور شاعر اور ناول نگار غازی سیال کا کہنا ہے کہ بنوں میں ڈھول بجانے کی تاریخ بہت پرانی ہے اور شاید اس شہر کے آباد ہونے سے پہلے بھی یہ روایت یہاں قائم تھی۔
انھوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ بنوں میں مذہب پسند عناصر کا اثر رسوخ زیادہ پایا جاتا ہے لیکن یہاں کے عوام نے کبھی ان عناصر کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔
غازی سیال کے مطابق ’چونکہ ڈھول بجانا پشتونوں کی روایت سمجھی جاتی ہے اسی وجہ سے شاید اسے برا بھی نہیں سمجھا جاتا اور مذہبی افراد نے بھی کبھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور نہ پابندیاں لگائی۔‘
بنوں میں ڈھول بجانے کا فن بہت قدیم ہے۔ لیکن یہاں کے عوامی نمائندوں یا حکومت کی طرف سے نہ تو اس مقامی ثقافت کو اہمیت دی گئی اور نہ اس پیشے سے وابستہ ہنر مندوں کی قدر کی گئی۔







