رجنی کانت پر بنے لطائف پر ان کی بیٹی ہنستی ہیں

،تصویر کا ذریعہSoundarya
جنوبی بھارت کے معروف اداکار رجنی کانت کے متعلق کسی بھی فنکار سے زیادہ لطیفے نظر آتے ہیں۔ جیسے:
’ایک دفعہ رجنی کانت کا پرس کہیں کھو گیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری دنیا میں اقتصادی بحران چھا گیا۔‘
’ایک بار رجنی کانت نے 11 ویں منزل سے چھلانگ لگائي لیکن وہ زمین پر نہیں گرے۔ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ رجنی کانت ہیں اور کشش ثقل کے قوانین ماننے کے پابند نہیں ہیں۔‘
’سائنس دانوں نے جب پہلی بار موبائل فون ایجاد کیا اور اسے آن کیا تو سکرین پر لکھا تھا: ’ 2 مسڈ کال فرام رجنی کانت۔‘
اس قسم کے لطائف برسوں سے رجنی کانت کے پرستاروں کو محظوظ کرتے رہے ہیں لیکن رجنی کانت کے اہل خانہ اسے کس طرح لیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKochadaiyaan pr
رجنی کانت کی بیٹی سوندريہ رجنی کانت نے اپنے ’اپّا‘ پر مبنی لطائف پر بات کرتے ہوئے کہا: ’ان کے لطائف کے پس پشت یہ جذبہ کار فرما ہوتا ہے کہ رجنی کانت کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتے ہیں۔ تو ہمیں ان لطیفوں سے کوئی پریشانی نہیں ہم سب ان کے لطائف سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔‘
سوندريہ نے اپنے والد رجنی کانت کے ساتھ ’كوچےڈيان‘ نامی فلم بنائی ہے۔
یہ فلم موشن کیپچر کی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس میں فنکاروں کے جسم اور ان کے حرکات و سکنات کو سکین کر کے پھر اسے اینیمیشن کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم میں دیپکا پاڈوکون بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ہرچند کہ سوندريہ نے فلموں میں اپنا کرئیر بطور ہدایت کار شروع کیا ہے لیکن کیا انھیں کبھی فلموں میں اداکاری کی پیش کش نہیں ہوئی؟
اس کے جواب میں انھوں نے کہا: ’دیکھیے ہر سٹار کے بچے کو فلموں کی پیش کش ہوتی ہے اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن میں نے طے کر لیا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ کیمرے کے پیچھے کا کام مجھے ہمیشہ سے ہی اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ہے۔‘
کیا ان کے والد رجنی کانت یہ نہیں چاہتے کہ وہ اداکارہ بنیں؟
سوندریہ کا کہنا تھا: ’یہ سچ ہے کہ میرے والد نے کبھی اس جانب میری حوصلہ افزائی نہیں کی لیکن اگر میں ہیروئن بننے کی خواہش ظاہر کرتی تو وہ منع بھی نہ کرتے۔ لیکن میں خود کبھی اداکارہ نہیں بننا چاہتی تھی۔‘
اپنے والد کے بڑے سٹار ہونے کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: ’جب میں پیدا ہوئی تبھی اپّا بہت بڑے سٹار بن چکے تھے۔ وہ شوٹنگ کے سلسلے میں اکثر باہر رہتے تھے۔ لیکن ہماری ماں نے مجھے اور میری بہن ایشوریہ کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی۔ انھی کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے کہ ہم دونوں رجنی کانت جیسے سپر سٹار کی بیٹی ہونے کے باوجود کسی قسم کے گھمنڈ کا شکار نہیں ہوئے۔‘

اپنے والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے سوندريہ نے کہا: ’ان کا رویہ ہر ایک شخص کے بارے میں ایک جیسا رہتا ہے۔ چاہے وہ کسی انتہائی امیر اور با اثر شخصیت سے ملیں یا کسی عام انسان سے۔ وہ سب کی قدر کرتے ہیں۔ پردے پر تو وہ سپرسٹار ہیں لیکن اصل زندگی میں وہ جیسے ہیں اسی کی وجہ سے وہ پوجے جاتے ہیں۔‘
سوندريہ نے بتایا کہ بالی وڈ میں امیتابھ بچن، جيتندر اور شتروگھن سنہا جیسے معروف اداکار ان کے والد کے بہت اچھے دوست ہیں اور خاندان کی طرح ہیں۔







