اب تو ممبئی میں ڈر لگتا ہے: کرینہ کپور

بالی وڈ کی معروف اداکارہ کرینہ کپور نے کہا ہے کہ بھارت کا اقتصادی دارالحکومت اور فلم نگری ممبئی خواتین کے لیے پہلے جیسی محفوظ نہیں رہی۔
ممبئی میں ایک موبائل ایپ کے لانچ کے موقع پر کرینہ کپور نے یہ باتیں کہیں۔
اس ایپ کی بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا یہ ایپ مصیبت اور پریشانی میں گھر جانے والی خواتین کے رشتہ داروں کو بروقت الرٹ روانہ کیا کرےگا۔
لانچ کے موقعے پر کرینہ کپور نے کہا: ’ممبئی میں اب پہلے والی بات نہیں رہی۔ آج سے دو سال پہلے تک میں یہاں خود کو محفوظ محسوس کرتی تھی لیکن گذشتہ برسوں میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ مجھے ڈر لگنے لگا ہے۔ میں یہاں کی سڑکوں پر چلتے وقت اب اس بے فکری کے ساتھ نہیں چلتی جیسے پہلے چلا کرتی تھی۔‘
اس کا سبب بتاتے ہوئے کرینہ کپور نے کہا: ’شکتی مل میں ایک خاتون صحافی کے ساتھ عصمت دری کے واقعہ نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ابھی گذشتہ دنوں میری رہائش سے ملحقہ علاقے میں ایک غیر ملکی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی۔ ان سب واقعات نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ بعض اوقات وہ اپنی فلم شوٹنگ کے سلسلے میں دیر رات تک مصروف رہتی ہیں اور گھر واپسی میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دیر ہوجانے پر ان کی ماں بہت پریشان ہو جاتی ہیں اور جب تک وہ گھر نہیں پہنچتیں اور انھیں اپنی سلامتی کے ساتھ گھر پہنچنے کی اطلاع نہیں دیتیں تب تک ان کی ماں جاگتی رہتی ہیں۔
کرینہ کپور یہ بھی تسلیم کرتی ہیں کہ جنسی زیادتی کے واقعات پورے ملک میں تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اس کی روک تھام کے لیے عوام میں تعلیم اور بیداری کی سخت ضرورت ہے تاکہ لوگوں کی فرسودہ اور جاہلیت پر مبنی سوچ کو تبدیل کیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ہی انھوں نے خواتین میں بھی اپنے حقوق کے تئیں بیداری پیدا کرنے کی بات پر زور دیا۔
بہر حال انھوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ گذشتہ دنوں ریپ سے متعلق قوانین میں سختی لائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس کے تحت اس جرم کے مرتکبین کو سخت اور عبرت ناک سزائیں ملیں گی جس کے نتیجے میں اس طرح کے بہیمانہ واقعات میں کمی آئے گی۔‘
انھوں نے دیہی علاقوں میں بھی خواتین کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت کو ان کی فلاح و بہبود کے لیے مثبت اقدام لینے کی ضرورت ہے اور ان کے خلاف ہونے والے ظلم و تشدد کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔







