کیا بالی وڈ ریپ سے منافع کمانے کے لیے کوشاں ہے؟

- مصنف, دیپتی کرکی
- عہدہ, بی بی سی
دہلی میں 16 دسمبر 2012 کو چلتی بس میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے احتجاج نے پورے بھارت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
اس واقعہ کے بعد فلمسازوں کی جانب سے ریپ کے موضوع پر فلمیں بنانے میں کافی دلچسپی نظر آ رہی ہے۔
اسی واقعہ پر بنگلہ فلم ’نربھويا‘ بن چکی ہے اور اطلاعات کے مطابق ایک اور فلم ’دامني دی آسمانی بجلی‘ بھی بن چکی ہے۔
اب اطلاعات کے مطابق ڈائریکٹر سنجے چھیل بھی ریپ جیسے موضوع پر ایک فلم بنا رہے ہیں جس کا نام ہے ’دی ریپسٹ‘۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سنجے چھیل نے اس بات کا انکار کیا کہ ان کی فلم دہلی ریپ واقعے پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی فلم کا مرکزی موضوع ریپ ضرور ہے لیکن یہ دہلی والے واقعے پر مبنی نہیں ہے۔
سنجے کچھ سال پہلے سنجے دت اور ارمیلا ماتونڈكر کے ساتھ فلم ’خوبصورت‘ بنا چکے ہیں۔
سنجے یہ ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ دہلی میں ہونے والے اس دردناک واقعے کے بعد انہوں نے اس فلم پر کام آگے بڑھانے کے بارے میں سوچا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں ’میرے پاس یہ کہانی پہلے سے تیار پڑی تھی لیکن کام آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا۔ پھر دہلی میں یہ دردناک حادثہ ہوا اور مجھے لگا کہ وقت آ گیا ہے کہ لوگوں کے سامنے یہ کہانی رکھنی چاہیے۔‘
سنجے نے بتایا کہ ان کی فلم بتاتی ہے کہ ریپ کے بعد اس کے متاثرین پر کیا گزرتی ہے۔ سماج، دوستوں اور قريبی افراد کی کیا رائے ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا ’میری فلم کے بعد پھر سے بحث چھڑ جائے گی کہ ریپ کا شکار لوگوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک ہونا چاہیے۔ ہماری فلم کے بعد ہم اگر ایک ریپ بھی روک پائے تو ہمیں خوشی ہوگی۔‘
جب سنجے سے ہم نے پوچھا کہ کیا وہ ریپ پر مبنی فلم بنا کر اس مسئلے سے پیسہ کمانے کی کوشش تو نہیں کر رہے ہیں۔
تو سنجے چھیل نے کہا ’یہ سچ ہے کہ بالی وڈ نے ریپ کو انتہائی سستا بنا دیا ہے لیکن ہم ایسا ہرگز نہیں کر رہے ہیں۔ اگر ہمیں اس معاملے سے فائدہ اٹھانا ہوتا تو ہم کرینہ یا پرینکا جیسی کسی بڑی آرٹسٹ کو لے کر کوئی خالصتاً کمرشل فلم بناتے لیکن ہم اس طرح کے واقعات کی شدت کو پوری ایمانداری سے دکھانا چاہتے ہیں، اس لئے ہم نے نئے فنکاروں کو لے کر ایک چھوٹی فلم بنائی۔‘
لیکن فلم ناقد نمرتا جوشی ان باتوں سے قطعی متفق نہیں ہیں۔ وہ مانتی ہیں کہ دہلی ریپ واقعہ کے بعد ریپ جیسے موضوع پر فلم بنانا پوری طرح سے منافع کمانے کی کوشش ہے۔
نمرتا کے مطابق ’یہ پوری طرح سے اس خوفناک واقعے سے منافع کمانے کی کوشش ہے۔ مجھے ایسی فلمیں بنانے والے سارے فلمسازوں کے ارادوں کی نیت پر شبہ ہوتا ہے۔‘
نمرتا کہتی ہیں ’ویسے بھی آپ اپنی فلم میں کیا نیا دکھا لوگے؟ ایسا واقعہ جس کی خبر پورے ملک کو ہے۔ ہم سب کے ذہن میں جس کی ایک ایک بات تازہ ہے اس پر آپ لوگوں کو ایسا کیا دکھا دو گے جو انہیں نہیں معلوم؟‘
جیسا کہ سنجے چھیل اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کا اپنی فلم کو آگے بڑھانے کے بارے میں انہوں نے دہلی ریپ کے واقعہ کے بعد ہی سوچا جس سے نمرتا کی باتوں کو کچھ تقویت ضرور ملتی ہے۔







